خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 125
خطابات شوری جلد سوم ۱۲۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء اس مخالفت کا حقیقی علاج تو یہی ہے کہ ایسے مبلغ ہمارے پاس کثرت سے تیار ہوں جو اُس ملک میں مدرسوں کا کام کریں اور عیسائی مدرسین کی ہمیں ضرورت نہ رہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی دوسری تجویز میں نے یہ کی ہے کہ ایک نوجوان کو انگلستان بھجوانے کا فیصلہ کر دیا ہے وہ وہاں سے ایم۔اے کی ڈگری حاصل کر کے ویسٹ افریقہ جائے گا۔اور لنڈن میٹرک کے اصول کے مطابق وہاں ایک سکول جاری کرے گا۔جس میں پڑھے ہوئے نو جوانوں کو گورنمنٹ کے قانون کے مطابق بطور مدرس رکھا جا سکے گا۔اس موقع پر میں پھر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہمیں فوری طور پر ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو اپنی زندگیاں وقف کریں تا کہ انہیں افریقہ میں تبلیغ کے لئے بھجوایا جا سکے۔اگر ایک سو نوجوان ہمیں ایسے مل جائیں تو ہم مغربی افریقہ کی ضرورت کو ایک حد تک پورا کر سکتے ہیں۔ابتداء میں بے شک کچھ خرچ ہو گا لیکن وہاں کی جماعتیں بہت جلد اُن کے اخراجات کو برداشت کرنے کا وعدہ کرتی ہیں۔اس صورت میں مرکز پر اُن کا کوئی بوجھ نہیں رہے گا اور وہ مقامی جماعتوں کے خرچ پر مغربی افریقہ میں تبلیغ کو وسیع کرسکیں گے۔“ آمد بڑھانے کی تجاویز حضور کے اس خطاب کے بعد کچھ ممبران نے سلسلہ کی آمد بڑھانے کے بارہ میں چند تجاویز پیش کیں۔ان پر تبصرہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:- دوستوں نے عام اظہارِ خیالات آمدن کے متعلق کر لیا ہے۔اس میں بعض اچھی تجویزیں بھی ہیں اور بعض ایسی ہیں جو در حقیقت نئی نہیں بلکہ انتظام کو درست بنانے کے متعلق ہیں۔اُن کا زیادہ تعلق نظارت بیت المال سے ہے۔اُن کو نظر انداز کرتے ہوئے جو تجاویز پیش کی گئی ہیں اُن میں سے دو تجویزیں ایسی ہیں جو درحقیقت میری ہی پیش کردہ ہیں۔یعنی ہندوستان میں تاجروں کی تنظیم اور ریز رو فنڈ کا جمع کرنا۔تاجروں کی تنظیم کے متعلق میں نے ایک خطبہ میں تفصیلی طور پر توجہ دلائی تھی مگر مجھے افسوس ہے کہ تاجروں کی جماعت پر میرے اس خطبہ کا اتنا اثر نہیں ہوا جتنا اثر میرے خطبات کا عام جماعت پر ہوا کرتا ہے۔اب تک اس تنظیم کے ماتحت صرف ڈیڑھ سو تاجروں نے اپنے نام لکھوائے ہیں