خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 126

خطابات شوری جلد سوم ۱۲۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء حالانکہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت میں ہزار دو ہزار سے کم تا جر نہیں ہیں پس یہ تعداد بہت ہی کم ہے اور پھر جس رنگ میں انہوں نے دلچسپی لی ہے وہ اور بھی کم ہے اور عملی طور پر تو انہوں نے کوئی قدم نہیں اُٹھایا۔اس غرض کے لئے جماعت کے تاجروں میں جو چندہ کی تحریک کی گئی تھی اُس میں بھی صرف ایک دوست چوہدری شاہ نواز صاحب آگرہ نے ایک ہزار روپیہ دیا ہے اور کسی نے جہاں تک مجھے علم ہے ایک پیسہ بھی نہیں دیا حالانکہ میں نے بتایا تھا کہ تنظیم کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے آدمی باہر پھریں، تاجروں سے خط و کتابت کریں اور انہیں ایک مرکز پر لانے کی کوشش کریں۔اب تک پانچ چھ سو روپیہ ہمارا خرچ ہو چکا ہے اور ابھی اور بھی بہت کچھ خرچ ہوگا کیونکہ اس محکمہ کو قائم ہوئے ابھی صرف تین چار ماہ ہوئے ہیں اور جبکہ یہ محلہ محض تاجروں کے لئے قائم کیا گیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ جن کے لئے یہ محکمہ قائم ہوا ہے اور جن کو قومی طور پر اس سے فائدہ پہنچ سکتا ہے وہ اس کی طرف توجہ نہ کریں۔خصوصاً ایسی جماعت جو مالی لحاظ سے بھی دوسروں پر فوقیت رکھتی ہے۔اب تک صرف چوہدری شاہ نواز صاحب نے ہی اس تحریک میں حصہ لیا ہے اور کسی نے اس طرف توجہ نہیں کی جو نہایت ہی قابلِ افسوس امر ہے۔ایک دوست نے امانت فنڈ کی طرف توجہ دلائی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ طریق بھی بہت سی مشکلات کو دُور کرنے والا ہے اور اس سے بہت سی جائیداد میں خریدی گئی ہیں جن کا مرکز کی مضبوطی کے لئے خریدنا ہمارے لئے ضروری تھا مگر ان کی طرف سے جو مشکلات بیان کی گئی ہیں میں نہیں سمجھ سکا کہ وہ کوئی حقیقی مشکلات ہیں۔موجودہ قاعدہ تو یہ ہے کہ لوگ جب چاہیں اپنی امانت کا روپیہ واپس لے سکتے ہیں۔جس طرح لوگ بنگ میں رو پی جمع کراتے اور پھر اپنی مرضی پر نکلوا لیتے ہیں اسی طرح ہمارے ہاں قانون ہے کہ جب کسی کو کوئی ضرورت پیش آئے وہ اپنا روپیہ نکلوالے، اس میں کسی قسم کی روک نہیں ہے۔اس وقت تک امانت فنڈ میں دو لاکھ سے اوپر روپیہ جمع ہوا ہے حالانکہ اگر جماعت پوری توجہ کرے تو آٹھ دس لاکھ روپیہ جمع ہو سکتا ہے۔اس سے لوگوں کی وقتی ضرورتیں بھی پوری ہوسکتی ہیں اور نصف سے زیادہ روپیہ سلسلہ کی جائیدادوں کو بڑھانے کے کام آ سکتا ہے۔ایک تجویز کی طرف بابوعبد الحمید صاحب آڈیٹر نے توجہ دلائی ہے جو درحقیقت میری ہی