خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 124
خطابات شوری جلد سوم ۱۲۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء انگریز کا شدید دشمن تھا مگر آج احمدیت کی وجہ سے انگریز میرے پہلو میں بیٹھا ہوا ہے اور میں اُسے اپنا بھائی سمجھ رہا ہوں۔وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاء فالف بين قُلُوْبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِه إخوانا۔یہ خوشی کی خبریں ہیں اور ایسی ہی ہیں جیسے خدا تعالیٰ کی طرف سے نسیم صبا چلائی جاتی ہے۔خدا تعالیٰ بھی ہمارے لئے خوشی کی ہوائیں چلا رہا ہے اور مختلف ملکوں سے اسلام کی ترقی کی خبریں آرہی ہیں۔مگر اس کے ساتھ ہی بعض ایسی خبریں بھی آ رہی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنے قدم کو اور زیادہ تیز کر دیں اور تبلیغ کو زیادہ زور اور سرگرمی کے ساتھ پھیلائیں۔عیسائیوں کا حملہ چنانچہ سیرالیون سے خبر آئی ہے کہ احمدیت کی ترقی کی وجہ سے وہاں عیسائیوں نے منظم طور پر حملہ شروع کر دیا ہے۔اُس ملک میں زیادہ تر تبلیغ مدرسوں اور سکولوں کے ذریعہ ہوتی ہے اور مدرس چونکہ مسلمان نہیں ملتے اس لئے عیسائیوں کو ملازم رکھ لیا جاتا ہے۔اب عیسائیوں نے آپس میں مشورہ کر کے عیسائی مدرسین کو ہدایت کی ہے کہ وہ احمدی مدارس میں یہ مطالبہ کریں کہ انہیں اتوار کی چھٹی دی جائے تا کہ وہ گر جا میں شامل ہوسکیں۔اُن کی پالیسی یہ ہے کہ سرکاری گرانٹ کسی ایسے سکول کو نہیں مل سکتی جو ہفتہ میں چھ دن سے کم گھلا رہے۔ہمارے مدارس میں چونکہ جمعہ کو چھٹی ہوتی ہے اور اسلامی احکام کے لحاظ سے ہونا بھی ایسا ہی چاہئے۔اس لئے انہوں نے یہ مطالبہ شروع کر دیا ہے کہ ہمیں اتوار کو چھٹی دی جائے۔اِس سے اُن کا مقصد یہ ہے کہ اگر اتوار کو بھی چھٹی دے دی گئی اور جمعہ کو پہلے ہی چھٹی ہوتی ہے تو ہفتہ میں صرف پانچ دن پڑھائی ہوگی اور سرکاری گرانٹ بند ہو جائے گی۔عیسائیوں نے اپنے مدرسین سے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر احمد یہ مدارس سے اس مطالبہ کی بناء پر تمہیں علیحدہ کر دیا جائے تو ہم تمہارے لئے نئے سکول کھول دیں گے۔وہ جانتے ہیں کہ اگر ان کو ہٹا دیا گیا تو انہیں اپنے سکول بند کرنے پڑیں گے اور اگر اُن کا مطالبہ مان لیا تو سرکاری گرانٹ سے محروم رہنا پڑے گا۔یہ ایک نیا حملہ ہے جو سیرالیوں میں عیسائیوں کی طرف سے ہماری جماعت پر کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ دشمن کی اِن شرارتوں کے بداثرات کو دُور فرمائے اور اُسے اپنے ارادوں میں نا کام کرے۔