خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 104

خطابات شوری جلد سوم ۱۰۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء ہمارے کام کا ایسا نہ رہ جائے جو خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق نہ ہو۔“ اس کے بعد حضور نے تمام حاضرین سمیت لمبی دعا کروائی۔تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - " افتتاحی تقریر دنیا کے بعد اب میں مجلس شوری کا افتتاح کرتا ہوں اور جیسا کہ سابقہ طریق ہے میں اس وقت ان سب کمیٹیوں کا تقرر کروں گا جو ایجنڈا میں درج شدہ تجاویز کے متعلق صلاح مشورہ کر کے رپورٹ مرتب کریں گی اور کل ہم انشاء اللہ ان رپورٹوں پر اجلاس عام میں غور کریں گے۔میرا عام طریق یہ ہے کہ میں اس موقع پر کچھ ہدایات دیا کرتا ہوں۔مگر اس وقت تو مجھے بات کرتے ہوئے بھی ضعف محسوس ہو رہا ہے۔اس وجہ سے میں پہلے طریق کے مطابق تقریر نہیں کرسکتا۔صرف سب کمیٹیاں مقرر کر دیتا ہوں۔نظارت بیت المال کی سب کمیٹی کے سپر د میں نظارت علیا کی کیڈر کی تجویز بھی کر دیتا ہوں اور نظارت تالیف و تصنیف کی تجویز بھی اور اس سب کمیٹی کے ۳۱ ممبر قرار دیتا ہوں۔احباب مناسب آدمیوں کے نام پیش کریں۔دوسری سب کمیٹی نظارت دعوۃ و تبلیغ کی ہوگی۔جس کے سپر د نظارت تعلیم و تربیت اور نظارت علیا کی بقیہ تجاویز بھی کی جاتی ہیں۔اس سب کمیٹی کے ۲۳ ممبر ہوں گے۔“ سب کمیٹیوں کے تقرر کے بعد حضور نے فرمایا :- سب کمیٹیوں کو ہدایات کچھ سالوں سے تجربہ ہورہا ہے کہ سب کمیٹیاں جو ایجنڈا کی تجاویز پر غور و فکر کر کے رپورٹ پیش کرنے کے لئے مقرر کی جاتی ہیں وہ پوری محنت اور کوشش سے کام نہیں کرتیں اور بعض تو کام ختم کئے بغیر ہی چھوڑ دیتی ہیں۔اب کے صرف دو سب کمیٹیاں بنائی گئی ہیں تا کہ پوری طرح کام کر سکیں۔امید ہے کہ اب پوری محنت اور پورے غور سے کام کیا جائے گا اور اُس وقت تک اجلاس ختم نہ کئے جائیں گے جب تک کام ختم نہ ہو جائے اور کل مقررہ وقت پر رپورٹیں پیش کی جائیں گی۔میں طبیعت کی خرابی کی وجہ سے وہ باتیں نہیں کہہ سکتا جو اس موقع پر مجھے کہنی چاہئیں تھیں مگر ایک بات کی طرف خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جو سب کمیٹی بر