خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 105

خطابات شوری جلد سوم ۱۰۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء غور کرے وہ آمد بڑھانے کے ذرائع پر پوری طرح غور کرے۔اب جنگ کے ختم ہونے کے آثار نظر آرہے ہیں اور جنگ کے خاتمہ پر آمد پر بہت اثر پڑے گا۔اس سے پہلی جنگ کے متعلق ہمارا جو تجربہ ہے وہ یہ ہے کہ جنگ کے ختم ہونے کے معا بعد آمدنی کم ہوگئی اور یہ کمی برابر دس سال تک جاری رہی۔پس اس وقت غور کرنا چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ آمدنی کس طرح بڑھائی جاسکتی ہے اور اس طرح زیادہ سے زیادہ ریز روفنڈ قائم کر لینا چاہئے۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی غور کرنا چاہئے کہ جس قدر خرچ گھٹایا جاسکے گھٹا دیا جائے۔“ دوسرا دن رڈ شدہ تجاویز کی وجوہ بیان کی جائیں مجلس مشاورت کے دوسرے دن ۳۱ / مارچ ۱۹۴۵ء کو کارروائی شروع ہونے پر مکرم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے حسب قاعدہ رڈ شدہ تجاویز پڑھ کر سنائیں۔اس موقع پر حضور نے احباب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :- جو ابتدائی کارروائی تھی وہ تو ختم ہو چکی ہے اب بجٹ کے متعلق سب کمیٹی کی رپورٹ دوستوں کے سامنے پیش کی جانے والی ہے۔بعض باتیں میں رپورٹ سنائے جانے کے بعد کہوں گا مگر اس امر کی طرف میں رپورٹ سے پہلے ہی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جو تجاویز ابھی آپ لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی ہیں جس کو صدرانجمن احمدیہ نے رڈ کر دیا ہے مناسب یہ تھا کہ صدر انجمن احمد یہ اُن کو رڈ کرنے کی وجوہ بھی ساتھ ہی بیان کر دیتی تا کہ دلوں پر یہ اثر پیدا نہ ہوتا کہ صدرانجمن احمدیہ نے بعض نہایت ہی مفید تجاویز کو بغیر غور وفکر کرنے کے یونہی رڈ کر دیا ہے اور اگر اُن کے جواب کے بعد بھی کسی قسم کی کمزوری باقی رہ جاتی تو جماعت کو غور کرنے کا موقع مل جاتا اور صدر انجمن احمدیہ کو صحیح مشورہ حاصل ہو جاتا۔ہسپتال کے لئے زمین کی خرید مثلاً جو تجاویز ابھی سنائی گئی ہیں اُن میں ایک تجویز یہ بھی تھی کہ ہسپتال کو باہر لے جایا جائے اور اس کے لئے کم سے کم چارا یکٹر زمین خریدی جائے۔جہاں تک سلسلہ کے اداروں کا تعلق ہے یہ بات روز روشن کی طرح ظاہر اور واضح ہے کہ اُن کے لئے جگہ کی بہت ہی قلت پیدا ہو چکی ہے۔