خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 95
خطابات شوری جلد سوم اور میں اُن کو جواب دیتے ہوئے کہتا ہوں :- ۹۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء کس کی طاقت ہے کہ خدا کی اجازت کے بغیر تالے کھول سکے حضرت اماں جان ) کا یہ فرمانا کہ ” تالے کیوں نہ کھول لئے۔بتاتا تھا کہ کوئی ایسا واقعہ ہوگا جس کا اُن کے ساتھ خاص طور پر تعلق ہوگا جس میں ہمیں ناکامی ہوگی۔میں نے بھی یہی کہا کہ کس کی طاقت ہے کہ خدا کی اجازت کے بغیر تالے کھول سکے۔“ 66 چنانچہ میرے لا ہور سے واپس آتے ہی میر صاحب بیمار ہو گئے اور دعاؤں اور علاج کے با وجود کوئی فائدہ نہ ہوا اور اُن کا انتقال ہو گیا۔اس رؤیا کے ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ نے یہی بتایا تھا کہ خدا کی مشیت اب ظاہر ہو کر رہے گی اور جب اُس کی طرف سے کوئی فیصلہ ہو جائے تو نہ دُنیوی تدابیر کام آتی ہیں اور نہ دینی تدابیر کوئی فائدہ پہنچاتی ہیں۔بہر حال خدا تعالیٰ کی مشیت پوری ہوئی اور میر صاحب وفات پاگئے۔اُن کے انتقال سے جماعت کو اس لحاظ سے شدید صدمہ پہنچا ہے کہ وہ سلسلہ کے لئے ایک نہایت مفید وجود تھے مگر یاد رکھو مومن بہادر ہوتا ہے اور بہادر انسان کا یہ کام نہیں ہوتا کہ جب کوئی ابتلاء آئے تو وہ رونے لگ جائے یا اُس پر افسوس کرنے بیٹھ جائے۔بہادر آدمی کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ فوراً اپنی غلطی کو درست کرنا شروع کر دیتا ہے اور نقصان کو پورا کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔وہ شخص جو رونے لگ جاتا ہے مگر اپنی غلطی کی اصلاح نہیں کرتا وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔کامیاب ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو ابتلاء کے بعد اپنے آپ کو ایسے رنگ میں تیار کرنا شروع کر دیتا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور با ہمت ہو جاتا ہے۔ہمارے لئے جو ابتلاء آئے ہیں یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑا تازیانہ ہیں کہ تم کیوں ایسی حالت میں بیٹھے ہوئے ہو کہ جب کوئی شخص چلا جاتا ہے تو تم کہتے ہو اب کیا ہو گا۔تم کیوں اپنے آپ کو اس حالت میں تبدیل نہیں کر لیتے کہ جب کوئی شخص مشیتِ ایزدی کے ماتحت فوت ہو جائے تو تمہیں ذرا بھی یہ فکر محسوس نہ ہو کہ اب سلسلہ کا کام کس طرح چلے گا بلکہ تم میں سینکڑوں لوگ اُس جیسا کام کرنے والے موجود ہوں۔ایک غریب شخص جس کے پاس ایک ہی کوٹ ہوا گر اُس کا کوٹ ضائع ہو جائے تو اُسے سخت صدمہ ہوتا ہے لیکن ایک امیر شخص جس کے پاس پچاس کوٹ ہوں اُس کا اگر ایک کوٹ