خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 96

خطابات شوری جلد سوم ۹۶ مشاورت ۱۹۴۴ء۔ضائع بھی ہو جائے تو اُسے خاص صدمہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے میرے پاس ۴۹ کوٹ اور موجود ہیں۔اسی طرح ہماری جماعت اگر روحانی طور پر نہایت مال دار بن جائے تو اُسے کسی شخص کی موت پر کوئی گھبراہٹ لاحق نہیں ہو سکتی۔تم اپنے آپ کو روحانی لحاظ سے مال دار بنانے کی کوشش کرو۔تم میں سینکڑوں فقیہہ ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں محدّث ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں مفسر ہونے چاہئیں ، تم میں سینکڑوں علم کلام کے ماہر ہونے چاہئیں ، تم میں سینکڑوں علم اخلاق کے ماہر ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں علم تصوف کے ماہر ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں منطق اور فلسفہ اور فقہ اور لغت کے ماہر ہونے چاہئیں۔تم میں سینکڑوں دنیا کے ہر علم کے ماہر ہونے چاہئیں تا کہ جب اُن سینکڑوں میں سے کوئی شخص فوت ہو جائے تو تمہارے پاس ہر علم اور ہر فن کے ۴۹۹ عالم موجود ہوں اور تمہاری توجہ اس طرف پھرنے ہی نہ پائے کہ اب کیا ہو گا۔جو چیز ہر جگہ اور ہر زمانہ میں مل سکتی ہو اس کے کسی حصہ کے ضائع ہونے پر انسان کو صدمہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایسی سینکڑوں چیزیں میرے پاس موجود ہیں۔اسی طرح اگر ہم میں سے ہر شخص علوم وفنون کا ماہر ہو تو کسی کو خیال بھی نہیں آ سکتا کہ فلاں عالم تو مر گیا اب کیا ہوگا۔یہ خیال اسی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے وجودوں کو نادر بنے دیتے ہیں اور اُن جیسے سینکڑوں نہیں ہزاروں وجود اور پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔اگر اُن کے نادر ہونے کا احساس جاتا رہے جس کی سوائے اس کے اور کوئی صورت نہیں ہو سکتی کہ اُن کے قائم مقام ہزاروں کی تعداد میں ہمارے اندر موجود ہوں تو کبھی بھی جماعت کو یہ خیال پیدا نہ ہو کہ فلاں شخص تو فوت ہو گیا اب کیا ہوگا۔دیکھو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ " تم نیکی کے میدان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔اگر ہم قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق یہ اشتیاق رکھتے کہ ہم دوسروں سے آگے بڑھ کر رہیں ، اگر ہم میں سے ہر شخص اشتیاق کی روح کو اپنے اندر قائم رکھتا تو آج ہم میں سے ہر شخص بڑے سے بڑا محدث ہوتا، بڑے سے بڑا مفتر قرآن ہوتا، بڑے سے بڑا عالم دین ہوتا اور کسی کے دل میں یہ احساس تک پیدا نہ ہوتا کہ اب جماعت کا کیا بنے گا۔جب کثرت سے علماء قوم میں موجود ہوں، جب کثرت سے فقہاء قوم میں موجود ہوں، جب کثرت سے ادباء قوم میں موجود ہوں،۔