خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 86
خطابات شوری جلد سوم ۸۶ مشاورت ۱۹۴۴ء اس لئے ضروری تھا کہ اس امر کی وضاحت کرائی جاتی۔مسٹر جناح نے اُن سے کہا کہ صاف اعلان کرنا تو مشکل ہے کیونکہ اس طرح شورش پیدا ہو جائے گی مگر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ موجودہ کانسٹی ٹیوشن کے لحاظ سے مسلم لیگ میں شمولیت کے حق سے کسی شخص کو اس بناء پر محروم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ احمدی ہے۔پس چونکہ مسٹر جناح نے کہہ دیا ہے کہ احمدی بھی مسلم لیگ میں شریک ہو سکتے ہیں، پہلی کمیٹی جو اس کے خلاف فیصلہ کر چکی تھی اب اُس فیصلہ کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔اس لئے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ پیرا کبر علی صاحب کے ساتھ مسٹر جناح کی جو گفتگو ہوئی ہے وہ کسی انگریزی اخبار میں شائع کرا دی جائے اور پھر اُس پر نشان لگا کر وہ پر چہ مسٹر جناح کو اس نوٹ کے ساتھ بھجوا دیا جائے کہ ہم آپ کو یہ اخبار بھیج رہے ہیں جس میں آپ کی وہ گفتگو درج ہے جو آپ نے مسلم لیگ میں احمدیوں کی شمولیت کے متعلق پیرا کبر علی صاحب سے کی ، اگر یہ گفتگو غلط شائع ہوئی ہے تو آپ اس کی تردید کر دیں اور اگر آپ نے تردید نہ کی تو ہم سمجھیں گے کہ جو کچھ اخبار میں آپ کے متعلق شائع کیا گیا ہے وہ درست ہے۔اس کے بعد اگر مسلم لیگ نے کوئی خلاف ورزی کی تو اُس کی ذمہ واری آپ پر ہو گی۔ہم اُس وقت اس نوٹ کو پیش کر دیں گے کہ ہمارے ساتھ فلاں عہد کیا گیا تھا مگر مسلم لیگ نے اس کی خلاف ورزی کی۔بہر حال مسٹر جناح نے اگر اس گفتگو کو تسلیم کر لیا تو ہمیں انفرادی طور پر مسلم لیگ میں شمولیت کے متعلق احمدیوں کو اجازت دینے میں کوئی عذر نہیں ہو گا۔میں سمجھتا ہوں کہ مسلمان اس وقت ایسے نازک دور میں سے گزر رہے ہیں کہ اگر آپس میں مل کر کام کرنے کی کوئی بھی صورت پیدا ہو تو ہمیں اُس سے دریغ نہیں کرنا چاہئے۔اگر وہ صرف اتنی ہی معذرت کرتے ہیں کہ پچھلی کمیٹی سے میرا کوئی واسطہ نہ تھا اب نئی کمیٹی بنی ہے جس نے پہلے قانون کو منسوخ کرتے ہوئے تسلیم کر لیا ہے کہ احمدی بھی مسلم لیگ میں شامل ہو سکتے ہیں تو ہمیں اُن کی اتنی معذرت کو ہی قبول کر لینا چاہئے۔اسلامی تعلیم اور اعلیٰ تربیت کے حصول کا کامیاب طریق ایک اور بات جس کی طرف میں دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جیسا کہ دوستوں کو اخبار کے ذریعہ معلوم