خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 87

خطابات شوری جلد سوم ۸۷ مشاورت ۱۹۴۴ء ہوتا رہتا ہے اب قریباً روزانہ میں باہر مجلس میں مغرب کی نماز کے بعد بیٹھتا ہوں اور دوست مجھ سے مختلف سوالات کرتے ہیں جن کے میں جوابات دیتا ہوں یا میرے ذہن میں کوئی بات آجائے تو میں خود ہی اُس کو بیان کر دیتا ہوں۔گویا یہ ایک درس ہے جو جماعت کی علمی اور روحانی ترقی کے لئے روزانہ جاری رہتا ہے۔اس درس سے فائدہ اُٹھانے کے لئے بیرونی جماعتوں کو بھی چاہئے کہ وہ ایک ایک شخص کو مختلف اوقات میں قادیان بھیجتے رہیں تا کہ وہ ہم سے مختلف باتیں سیکھ کر دوسروں تک پہنچائیں اور اس طرح فیوض کا ایک لمبا سلسلہ جاری رہے۔میرے نزدیک مناسب صورت یہ ہے کہ بیرونی جماعتیں مختلف دوستوں کو مقرر کر دیں۔جن میں سے کوئی یہاں جنوری میں آجائے ، کوئی فروری میں آجائے ، کوئی مارچ میں آ جائے ، کوئی اپریل میں آجائے ، اس طرح یکے بعد دیگرے جماعتیں مختلف آدمیوں کو بھجواتی رہیں تاکہ ساری جماعت کی تربیت ہوتی رہے اور ساری جماعت ان باتوں سے واقف رہے۔بغیر اسلامی تعلیم سے کامل واقفیت پیدا کرنے کے کبھی کوئی نیک نتیجہ پیدا نہیں ہوسکتا۔یہ جو جماعتوں میں شور رہتا ہے کہ ہمارے پاس مبلغ بھجوائے جائیں اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ جماعتیں اپنی علمی ترقی کے لئے کوشش نہیں کرتیں۔ورنہ عام طور پر وہ مبلغین سے بے نیاز ہو جائیں اور خود ہی تمام تبلیغی ضروریات کو سر انجام دینے لگ جائیں۔اعلیٰ تربیت کے حصول کا طریق قرآن کریم نے یہی بیان کیا ہے کہ لوگ اپنے روحانی مرکز میں آئیں اور فیوض و برکات حاصل کریں۔یہی وجہ ہے کہ مدینہ میں ارد گرد سے لوگ ہمیشہ آتے رہتے تھے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہ کر آپ سے خود بھی فائدہ اُٹھاتے اور دوسروں تک بھی وہ باتیں پہنچا دیتے۔پس ہر بڑی جماعت کو چاہئے کہ وہ مختلف افراد کو قادیان میں بھجوانے کا انتظام کرے۔کوئی مہینہ کے لئے آ جائے ، کسی کو پندرہ دن کی چھٹی ملے تو وہ پندرہ دن کے لئے آ جائے۔اس طرح یکے بعد دیگرے مختلف دوست مختلف اوقات میں آتے رہیں اور جماعت کے دلوں میں جو عام طور پر سوالات پیدا ہوتے ہیں اُن کو لکھ کر لے آئیں۔خواہ وہ جماعت کے نظام اور اس کی ترقی کے متعلق ہوں یا مذہب اور روحانیت کے متعلق ہوں اور پھر وہ سوالات مجلس میں میرے سامنے پیش کر کے اُن کے جوابات سنیں۔اُن جوابات کو نوٹ کریں اور پھر واپس جا کر لوگوں کو بتا ئیں