خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 85
خطابات شوری جلد سوم ۸۵ مشاورت ۱۹۴۴ء ورنہ پبلک کا اندازہ اس سے بہت زیادہ ہے۔ایسے ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ بعض لوگوں کو جو کئی کئی دن کے بھوکے تھے جب پینے کے لئے دودھ یا کھانے کے لئے چاول دیئے گئے تو دودھ کا ایک گھونٹ یا چاول کا ایک لقمہ اُن کے معدہ میں جاتے ہی ایسی زہریلی کیفیت پیدا ہو گئی کہ وہ اُسی وقت مر گئے۔میرا اپنا ایک بھتیجا کلکتہ میں ہے۔اُنہوں نے ایک لڑکی کو جو کئی دن سے بھوکی تھی دودھ دیا تو وہ اُس کے پیتے ہی مرگئی۔ہندوؤں نے شور مچا دیا کہ اُسے زہر دی گئی ہے چنانچہ پولیس بھی آگئی مگر چونکہ پولیس کے علم میں اس قسم کے بیسیوں واقعات تھے اس لئے اُس نے ہندوؤں کو ڈانٹا کہ اس شخص نے تو احسان کیا تھا اور تم اُلٹا اس کو ملزم قرار دیتے ہو۔واقعہ یہ ہے کہ بنگال میں اس قسم کے سینکڑوں واقعات ہوئے ہیں کہ ایک شخص کو جو کئی دن سے بھوکا تھا روٹی دی گئی تو لقمہ کھاتے ہی وہ مر گیا اور روٹی اس کے معدہ میں جا کر اس طرح چھی جس طرح کسی کو خنجر مار دیا گیا ہو کیونکہ کئی کئی دن بھوکا رہنے سے معدہ اتنا کمزور ہو جاتا ہے اور اس قسم کی زہر اُس کے اندر پیدا ہو جاتی ہے کہ دودھ یا روٹی کے ساتھ مل کر فوراً انسان کو ہلاک کر دیتی ہے۔یہ واقعات ہیں جو بنگال میں رونما ہو رہے ہیں مگر ہمارے پنجاب میں روٹی الگ ضائع کی جاتی ہے اور بچے الگ آئے گھول گھول کر اس کے کھلونے وغیرہ بناتے رہتے ہیں۔یہ کتنا ظلم ہے کہ ہمارے ہمسائے تو بھوکے مر رہے ہیں اور لوگ اپنے بچوں کو کھلونوں کے لئے آٹا دے دیتے ہیں اور اس طرح گندم کو ضائع کرتے ہیں۔پس دوستوں کو چاہئے کہ اگر خدانخواستہ قحط زیادہ ہو تو وہ کوشش کریں کہ اُن کی ساؤنی کی فصل اچھی ہو جائے۔مکئی تو شہری لوگ کھا سکتے ہیں مگر باجرہ نہیں کھا سکتے مگر زمیندار ان چیزوں کو آسانی سے کھا لیتے ہیں اس لئے وہ گندم دوسروں کو دے کر خود مکئی یا جوار یا باجرہ پر گزارہ کر سکتے ہیں اور یہ بات ان کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ایک اور بات جس کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ پیرا کبر علی صاحب مجھ سے اجازت لے کر مسٹر جناح سے ملے تھے اور اُن سے دریافت کیا تھا کہ کیا وہ کُھلے طور پر یہ اعلان کرنے کے لئے تیار ہیں کہ کسی شخص کو محض اس لئے مسلم لیگ سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ احمدی ہے۔چونکہ پہلی کمیٹی مسلم لیگ سے جماعت احمدیہ کو خارج قرار دے چکی تھی