خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 75
خطابات شوری جلد دوم ۷۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء مجھے سب سے محبت ہے خواہ کوئی نادہند ہو یا دہند۔خدا تعالیٰ نے سب کو میرے لئے بمنزلہ اولاد بنایا ہے اس لئے طنز خواہ کسی پر کیا جائے مجھے بُرا لگتا ہے۔یہ مرض لا ہور کی جماعت میں زیادہ ہے۔اس سے بُرے نتائج پیدا ہوتے ہیں۔اگر دوست اس بات کی عادت ڈال لیں کہ دوسروں کی طبائع میں اشتعال نہ پیدا ہونے دیں گے تو دُگنا کام کر سکتے ہیں اور یہ مومنانہ صفت بھی ہے۔(۱۸)۔ایک تجویز یہ ہے کہ وصیت کا بقایا نہ ہونے دیا جائے۔اگر کسی کے ذمہ بقایا ہو جائے تو اُسے نوٹس دے کر وصیت منسوخ کر دینی چاہئے کیونکہ جو شخص بقایا ادا نہیں کرتا وہ کس طرح مخلص کہلا سکتا ہے؟ جب تک مقبرہ بہشتی کی کمیٹی ایسا نہ کرے گی وہ ہرگز اپنا فرض دیانت داری کے ساتھ ادا نہ کرے گی۔بابوعبدالحمید صاحب نے جو تجاویز بتائی ہیں وہ اچھی ہیں اور اس قابل ہیں کہ امراء اور پریذیڈنٹ صاحبان ان پر عمل کرائیں۔(۱۹)۔ایک تجویز یہ ہے کہ وقف کنندگان کی خدمات بقایا وصول کرنے پر لگائی جائیں۔مالی کمیٹی اس پر بھی غور کرے گی۔آخر میں میں اس تجویز کا ذکر کرتا ہوں جو چوہدری صاحب نے پیش کی ہے۔جب تک خاص ذمہ داری عائد نہ ہو جماعتوں کی توجہ وصولی کی طرف پوری طرح نہیں ہو سکتی۔بے شک دفاتر میں بھی کوتاہیاں ہوتی ہیں لیکن زیادہ توجہ بیرونی اصحاب کی درکار ہے۔ان حالات میں ایک دو سال تک یہ تجربہ مفید ہوگا کہ چند چند جماعتوں کو یونٹ قرار دے کر ان پر چندہ ڈالا جائے جسے ادا کرنے کی وہ ذمہ دار ہوں۔اس طرح جماعتوں میں پوری طرح احساس پیدا ہو جائے گا اور اس طرح وہ جماعتیں یا تو سُست افراد کو بیدار کریں گی یا پھر ان کو پکڑوائیں گی۔اب تو نہ بیدار کرتی ہیں اور نہ پکڑواتی ہیں۔یہ شتر مرغ والی بات ہے اور یہ اچھا نتیجہ نہیں پیدا کر سکتی۔اس کے لئے میں نے یہ تجویز کیا ہے کہ اس کی تفصیلات کمیٹی میں طے ہوں گی اور اس کے لئے ضروری ہے کہ مجلس شوری کا ایک اور اجلاس آج سے چار پانچ ماہ بعد منعقد کیا جائے اُس سے قبل بقائے کی فہرستیں جماعتوں کے پاس چلی جائیں اور اجلاس میں آمد پر ہی