خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 74
خطابات شوری جلد دوم ۷۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء (۱۴)۔ملک عبد الرحمن صاحب خادم نے بیان کیا ہے کہ مرکز میں سستی ہوتی ہے۔یہ عام طور پر احساس پایا جاتا ہے کہ جو چٹھیاں باہر کے دوست لکھتے ہیں اُن کا جواب نہیں دیا جاتا۔تحقیقاتی کمیشن اس کو بھی مد نظر رکھے اور اعلان کرے کہ جس جس جماعت کو ایسی شکایت ہو ا طلاع دے اور پھر تحقیقات کی جائے۔(۱۵)۔ایک تجویز یہ ہے کہ چندہ کی وصولی کے متعلق مبلغین بھی تعاون کریں۔اس کی طرف میں پہلے بھی توجہ دلا چکا ہوں۔مبلغین جہاں جائیں وہاں وہ تمام مرکزی صیغوں کے نمائندے ہوتے ہیں۔نظارت تعلیم و تربیت، نظارت امور عامه، نظارت بیت المال، تحریک جدید وغیرہ ہر صیغہ کے کام کو دیکھنا ان کا فرض ہے۔ورنہ ایک آدھ تقریر کرنے کے بعد ان کا کام کیا ہوتا ہے۔(۱۶)۔ایک تجویز یہ ہے کہ قریب کے شہروں کے آدمی دوسرے مقامات کے احمدیوں کے پاس جائیں اور چندہ کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائیں کیونکہ مقامی سیکرٹری مال کو دیکھ کر بعض لوگ بھاگ جاتے ہیں۔اگر یہ درست ہے تو پھر دوسرے مقامات کے احمدیوں کو بھیجنے سے بھاگنا بہت زیادہ ہو جائے گا۔جہاں کسی احمدی کو دیکھا بھاگ گئے کہ شاید چندہ کی وصولی کے لئے ہی آ رہا ہے۔(۱۷)۔ایک تجویز یہ ہے کہ محصل عام طور پر ماہر فن نہیں ہوتے اس لئے ان کے بار بار کے تقاضا سے لوگ چڑ جاتے ہیں۔چندہ وصول کرنے والے اصحاب معاملہ فہم اور طبیعت شناس ہونے چاہئیں۔یہ معقول بات ہے بعض ایسی طبائع ہوتی ہیں کہ اگر لوگوں کے سامنے ان سے مانگا جائے تو چڑ جاتی ہیں اور بعض اس طرح بڑھ چڑھ کر دیتی ہیں۔پس طبائع کا خیال رکھنا چاہئے۔موقع اور محل کو مد نظر رکھا جائے اس کے ماتحت چندہ طلب کیا جائے۔ا پھر دیکھا گیا ہے کہ بعض کارکن عام طور پر طنز کرتے ہیں، اس سے کشیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔اس کے متعلق کم از کم امید یہ ہے کہ خلیفہ کی موجودگی میں تو کسی پر طنز نہ کیا جائے مگر بعض اوقات اس کی بھی پرواہ نہیں کی جاتی ، خصوصاً لاہور میں تو بعض اوقات مجلس میں بیٹھنا مشکل ہو جاتا ہے اور جب میں بیٹھتا ہوں تو دل دھڑکتا رہتا ہے۔