خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 69
خطابات شوری جلد دوم ۶۹ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء ثابت ہوسکیں گی۔قادیان اور سیالکوٹ کی لجنہ بہت مفید کام کر رہی ہیں۔سیالکوٹ کی لجنہ کو قادیان کی لجنہ پر اس لحاظ سے فضیلت حاصل ہے کہ وہ مرکز کی امداد سے محروم ہے لیکن قادیان کی لجنہ کو تحریک وغیرہ کی امداد ہوتی رہتی ہے اس لئے اسے میں دوسرے درجہ پر رکھتا ہوں۔تو لجنات کے ذریعہ بہت مفید کام ہو سکتا ہے۔قادیان میں غرباء کی خبر گیری اور چندہ کی وصولی کے متعلق لجنہ بہت اچھا کام کر رہی ہے اور میرا ارادہ ہے کہ بعض اور کام بھی اس کے سپرد کئے جائیں۔بیرونی جماعتوں کو چاہئے کہ ہر جگہ لجنہ قائم کریں جو مردوں کو دینی خدمت کے لئے اُبھاریں۔پھر عورتیں خود زائد اخراجات سے مردوں کے ہاتھ روکیں گی اور انہیں با قاعدہ چندہ ادا کرنے کے لئے مجبور کریں گی۔مجھے معلوم ہے بعض مخلص عورتیں ہماری جماعت میں ایسی ہیں جو مردوں سے کہہ دیتی ہیں پہلے باہر چندہ دے آؤ اور پھر تنخواہ گھر میں لاؤ اور جس سے دوطرف سے مطالبہ ہو باہر محصل چندہ طلب کرے اور گھر میں عورت چندہ دینے پر زور دے وہ ناد ہند نہیں رہ سکتا۔تو عورتوں میں اخلاص ہے اور وہ بہت کام کر سکتی ہیں بشرطیکہ ان کو کام کرنے کا موقع دیا جائے۔احد کی جنگ کے موقع پر جب یہ مشہور ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو مدینہ کے بچے اور عورتیں گھبرا کر گھروں سے باہر نکل آئیں۔ایک صحابی میدانِ جنگ سے خبر دینے آرہے تھے کہ ایک عورت نے اُن سے پوچھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے صحابی چونکہ ابھی ابھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر آیا تھا اُس نے جواب دیا تمہارا باپ مارا گیا ہے۔عورت نے کہا میں نے تم سے یہ نہیں پوچھا بلکہ یہ پوچھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے۔اُس نے پھر کہا تمہارا بھائی بھی مارا گیا ہے۔عورت نے کہا مجھے یہ بتاؤ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے صحابی نے پھر کہا تمہارا خاوند بھی مارا گیا ہے۔عورت نے کہا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق بتاؤ۔اُس نے کہا آپ خیریت سے ہیں۔اس پر عورت نے کہا جب آپ زندہ ہیں تو پھر مجھے کسی کی موت کی پرواہ نہیں ہے یوں اگر اُس کا خاوند مرتا اور اُسے اُس کی موت کی خبر پہنچتی تو وہ مہینوں غم والم میں مبتلا رہتی، یوں