خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 68
خطابات شوری جلد دوم ۶۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء میرے نزدیک یہ مناسب تجویز ہے کہ جو لوگ بقایا دار ہوں تین چار بااثر آدمی وفد بنا کر ایک دن مقرر کر لیں کہ اس دن ان سے بقایا وصول کریں گے۔وہ تمام بقایا داروں کے پاس جائیں اور محبت و پیار، نرمی اور عمدگی سے حقیقت سمجھا کر وصول کریں۔(۶)۔اختر صاحب نے کہا ہے کہ تاجر عام طور پر پورا چندہ نہیں دیتے۔یہ بڑی حد تک صحیح ہے۔زمیندار بہت حد تک چندہ با قاعدہ ادا کرتے ہیں اور ملازمت پیشہ بہت بڑی حد تک ، مگر تاجر سب سے پیچھے ہیں۔وہ اپنی پوری آمد نہیں بتاتے ، وہ سب سے کم چندہ ادا کرتے ہیں اور آمد کم لکھاتے ہیں۔مگر جب مکان بناتے یا شادی کرتے ہیں تو بہت زیادہ خرچ کر دیتے ہیں۔یہ خرچ کہاں سے آتا ہے ان کا معاملہ بھی قابلِ غور ہے۔(۷)۔بعض نے کہا ہے کہ اگر محصل اور سیکرٹری اچھی طرح کام کریں تو پورا چندہ وصول کر سکتے ہیں لیکن چونکہ ان کے لئے کام زیادہ ہوتا ہے اس لئے وہ پوری کوشش نہیں کر سکتے۔یہ بات بھی قابل غور ہے۔پیچھے جب ایک دفعہ یہ سوال اُٹھایا گیا تھا کہ پیڈ (PAID) محصل رکھے جائیں تو جماعتوں نے اس پر بُرا منایا تھا مگر اب محسوس کیا جا رہا ہے کہ پیڈ (PAID) نہ رکھنے کی وجہ سے نقص پیدا ہو رہا ہے۔بعض جگہ جماعتیں اتنی زیادہ ہو گئی ہیں کہ وہاں با قاعده وصولی کا کوئی نہ کوئی انتظام ہونا چاہئے۔مثلاً لا ہور کی جماعت ہے وہ چونکہ پھیلی ہوئی ہے اس کے حلقے مقرر کر دیئے گئے ہیں اور اس کا اچھا نتیجہ نکلا ہے اور یہ جماعت بھی فرض شناس جماعتوں میں شامل ہونے کے قابل ہوتی جا رہی ہے۔قادیان میں محلہ وار جو انتظام کیا گیا ہے یہ بھی مفید ثابت ہوا ہے۔تو اس قسم کی کسی تجویز کی ضرورت ہے۔خواہ اس کے لئے چندہ میں سے کمیشن مقرر کر کے یا حلقے مقرر کر کے علیحدہ علیحدہ محصل رکھ کر عمل میں لائی جائے۔اس تجویز کو بھی میں مالی کمیٹی کے سپر د کرتا ہوں جو اس پر غور کرے اور جہاں بقایا ہو وہاں ہنگامی خرچ کے لئے اجازت دی جائے جو بقایا کی وصولی کے متعلق کرنا پڑے۔(۸)۔ایک تجویز یہ بھی ہے کہ لجنہ کے ذریعہ عورتوں کو توجہ دلائی جائے کہ تمہارا میاں پورا چندہ نہیں دیتا اُسے پورا چندہ دینے کی تحریک کرو۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر جگہ لجنہ اماءاللہ قائم ہو اور عورتوں میں بیداری پیدا ہو پھر وہ مردوں کو بیدار کرنے میں مفید