خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 70
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء اگر اسے اپنے بھائی یا باپ کے مرنے کی اطلاع ملتی تو رونے دھونے میں لگ جاتی لیکن وہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کی خبر سن چکی تھی اس لئے اس کے بعد ہر ایک کی موت کی خبر سننا اس کے لئے آسان ہو گئی۔مجھے بتایا گیا ہے کہ ہماری جماعت میں بھی اس قسم کا ایک واقعہ ہوا۔پچھلے دنوں سیالکوٹ میں جب ہماری جماعت کا جلسہ ہوا تو اس میں شریک ہونے کے لئے نیشنل لیگ کور کے کچھ والنٹیئر ز ایک گاؤں کے قریب سے گزرے کہ وہاں کے لوگوں نے ان پر حملہ کر دیا۔کور والوں میں سے کچھ نے بُزدلی دکھائی کہ بھاگ گئے۔اس کے متعلق مجھے تار آیا اس میں لکھا تھا کہ ایک والنٹیئر کم ہے اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔اُس وقت میرے دل پر جو اثر تھا وہ یہ تھا کہ مجھے اس کی فکر نہیں کہ ایک مارا گیا یا کئی، مجھے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ اپنی جگہ پر قائم رہے یا نہ اور مجھے یہ معلوم کر کے بے حد افسوس ہوا کہ وہ قائم نہ رہے۔گو اس کی انہوں نے توجیہہ کی کہ لوگوں سے نہیں ڈرتے تھے بلکہ قانون سے ڈرے مگر بات ایک ہی ہے اور ان سے بہت بڑی غلطی ہوئی۔لیکن کل ہی مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ پھر جب ڈسکہ میں جلسہ ہوا اور وہاں کور کے جو نو جوان گئے تو ایک کی ماں نے جو صحابیہ ہیں اپنے بچے سے کہا بیٹا ! میں یہ خبر بڑی خوشی سے سُن لوں گی کہ تمہیں مار دیا گیا ، مگر میں یہ نہیں سُن سکوں گی کہ تم دشمن کے مقابلہ سے بھاگ گئے ہو۔اس اخلاص کو دیکھ کر وہ رنج جاتا رہا جو مردوں کی غلطی کی وجہ سے ہوا تھا۔دوسری عورتوں نے بھی اپنے بچوں سے یہی کہا۔مگر جس کا ذکر کیا گیا ہے اُس کا اکلوتا بیٹا تھا اِس لئے اُس نے زیادہ اخلاص کا ثبوت دیا۔بعض نے کہا اگر تمہارے مرنے کی خبر آئے گی تو خوشی ہوگی لیکن تمہارے بھاگنے کا سُن کر رنج ہوگا۔تو ہماری جماعت کی عورتوں میں اخلاص ہے اسے صرف اُبھارنے کی ضرورت ہے۔اگر ہر جگہ لجنہ قائم ہو جائے ،مستورات کو ان کی ذمہ داری سمجھا دی جائے تو یقیناً چندہ کی نادہندگی میں کمی آجائے گی۔کمیشن کے متعلق ایک بات رہ گئی تھی اور وہ یہ کہ انفرادی یا مجموعی طور پر کام کے متعلق مجھ سے ہدایات لے لیں اور پھر کام شروع کریں۔(۹)۔بابو ضیاء الحق صاحب نے ایک تجویز یہ پیش کی ہے کہ بجٹ میں آمد و خرچ کے مطابق