خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 67
خطابات شوری جلد دوم ۶۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء کا قانون تو ڑنا چاہئے۔وہی حالت ہمارے کارکنوں کی ہے۔وہ قانون کو توڑ نا عیب نہیں سمجھتے اور غذر تلاش کر کے توڑتے ہیں لیکن ہر حال میں قانون کی پابندی ہونی چاہئے۔اگر پوری طرح پابندی کر دی جائے تو دفاتر میں کام کرنے والے ہوشیار ہو جائیں گے۔میں جو کمیشن مقرر کیا کرتا ہوں اس کے سپرد یہ بھی کام کرتا ہوں کہ وہ نگرانی کرے کہ قواعد شکنی نہ ہو۔اس کمیشن کے ممبر اب یہ ہوں گے۔(۱)۔راجہ علی محمد صاحب۔(۲)۔میاں غلام محمد صاحب اختر۔(۳)۔ملک غلام محمد صاحب۔(۴)۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب۔(۵)۔بابو عبدالحمید صاحب آڈیٹر۔(۲)۔چوہدری عطا محمد صاحب۔(۷)۔پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے۔میں نے اس کمیشن میں ہر قسم کے آدمی شامل کر دیے ہیں تا کہ وہ سب دفاتر کی نگرانی کر سکیں۔یہ کمیشن دو دفعہ سال میں دفاتر کا معائنہ کرے اور سب سے ضروری بات یہ مدنظر رکھے کہ کوئی قانون چھوٹے سے چھوٹا ایسا نہ ہو جس کی پابندی نہ ہوتی ہو۔میں اس کمیشن کے ممبروں سے بیعت کے طور پر عہد لوں گا کہ کسی کی رعایت نہ کریں گے۔اور چھوٹے سے چھوٹا نقص بھی میرے سامنے پیش کر دیں گے تاکہ معلوم ہو کہ جو قانون نا قابلِ عمل ہے اسے منسوخ کر دیا جائے اور جو قابل عمل ہوں ان پر عمل کرایا جائے۔ایک آدمی اس کام کے لئے مقرر کیا جائے کہ مجلس مشاورت کی ساری رپورٹیں پڑھے، صدر انجمن کے فیصلے پڑھے اور یہ نوٹ کرے کہ ناظروں اور نائب ناظروں اور صیغہ کے افسروں کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔پھر دیکھا جائے کہ وہ پوری ہو رہی ہیں یا نہیں؟ یہ ایک بھاری کام ہے مگر جن مشکلات میں سے ہم گزر رہے ہیں ان کے لئے بھاری قربانیوں کی ضرورت ہے اور یہ قربانی اس حالت کے مقابلہ میں بھاری نہیں بلکہ حقیر سے حقیر ہے۔کمیشن کے ممبروں کا یہ کام ہوگا کہ وہ نقائص کو دیکھیں کسی کی مجبوری کو نہ دیکھیں مجبوری قانون بدلوا سکتی ہے مگر قانون شکنی کا موجب نہیں بن سکتی۔(۵)۔سید ارتضی علی صاحب نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ بقایا کا صیغہ الگ کر دیا جائے جو اس کی وصولی کا انتظام کرے۔اعلانات کرے، وفود مقرر کرے، مختلف رنگوں میں پرو پیگنڈا کرے اس تجویز کو بھی مالی کمیٹی کے سپر د کرتا ہوں۔