خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 66

خطابات شوری جلد دوم ۶۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء کرتے وقت نادہندوں کو نکال دیا کریں گی مگر قانون یہ ہے کہ ہر جماعت کی فہرست میں تمام ممبروں کے نام دینے پڑتے ہیں یعنی تمام احمدیوں کے نام لکھے جاتے ہیں۔اگر اس قانون کی پابندی کرائی جائے تو پھر وہ صورت نہیں پیدا ہو سکتی۔گویا جہاں تک ممکن ہے احتیاط کر لی گئی ہے۔اب اگر غلطی ہوگی تو اس لئے کہ قانون کی پابندی نہ کرائی جائے گی۔آئندہ میں اس پر اور بھی زور دوں گا مگر اب بھی کہتا ہوں کہ بہت سے نقائص اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ قانون کی پابندی نہیں کرائی جاتی۔یہ غلطی صدرانجمن سے لے کر نیچے تک چلی جاتی ہے۔مجلس شوریٰ میں جو امور منظور کئے جاتے ہیں، صدرانجمن احمد یہ میں جو قواعد پاس کئے جاتے ہیں، میں جو قواعد منظور کرتا ہوں صدر انجمن ان کی پابندی نہیں کراتی۔آگے جو افسر اپنے اپنے صیغہ کے متعلق قواعد تجویز کرتے ہیں ان کی پابندی نہیں کرائی جاتی۔یہ سل اور دق کے امراض ہیں، ان کو دور کرنا ہمارا فرض ہے۔قاعدہ یہ ہونا چاہئے کہ جو بھی قانون بنایا جائے اُس کی پابندی کرنی چاہئے اور اگر کسی وجہ سے اس کی پابندی نہیں کی جاسکتی تو اسے پیش کر کے منسوخ کرانا چاہئے۔یہ نہیں کہ قانون موجود ہو لیکن اس کی پابندی نہ کی جائے۔مثلاً ہم کہتے ہیں ناظر اعلی تمام دفاتر کا معائنہ کرے اگر وہ نہیں کر سکتا تو لکھے کہ ایسا نہیں کر سکتا۔مگر ہوتا کیا ہے یہ کہ قانون موجود ہوتا ہے اور اس کے متعلق جب پوچھا جاتا ہے کہ کیا عمل ہوا تو کہہ دیا جاتا ہے کہ کچھ نہیں کیا گیا۔یہ قانون شکنی ہے اور اسے کسی صورت میں جاری نہیں رکھا جا سکتا۔اسی طرح ناظر اپنے ماتحت دفاتر کا معائنہ نہیں کرتے اور جب پوچھا جائے تو کہہ دیتے ہیں کہ کام بہت ہے مگر جب یہ ذمہ داری عائد کی گئی تھی اُس وقت چاہئے تھا کہ کام بہت ہے اور یہ نہیں ہو سکتا۔ورنہ رات دن بیٹھتے اور جو کام ان کے سپرد کیا گیا تھا اُسے پورا کرتے۔میں ان لوگوں کے متعلق جو یہ کہتے ہیں کہ کام کی کثرت کی وجہ سے ہم فلاں کام نہیں کر سکتے سمجھتا ہوں کہ ان کے اوقات اتنے نہیں کام میں صرف ہوتے جتنے ہونے چاہئیں۔مثلاً ان دفاتر کے آدمی برام بجے دفتر بند کر کے چلے جائیں گے حالانکہ جب کام کرنا ہو تو ۱۲ بجے تک بھی بیٹھنا چاہئے جیسا کہ بعض دفاتر اب بھی دیر تک کھلے رہتے اور ان میں کام ہوتا ہے۔مگر ایشیا کی عادت کے مطابق جو یہ ہے کہ قانون توڑنے کے لئے ہوتے ہیں نہ کہ عمل کرنے کے لئے۔علماء نے بھی حیلے تراشے ہیں کہ کسی طرح شریعت