خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 735 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 735

۷۳۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء خطابات شوری جلد دوم ہو گیا اُس دن تمہارے سارے شک ، سارے شبہات اور سارے وساوس آپ ہی آپ دُور ہو جائیں گے اور تم اپنے آپ کو ترقی کے ایک مضبوط اور بلند تر مینار پر کھڑا دیکھو گے۔ہم میں خدا تعالیٰ کا ایک نبی آیا اور اس نے اپنے تازہ بتازہ معجزات اور نشانات سے ہمیں ہمارے زندہ خدا کی طاقتوں اور قدرتوں کا مشاہدہ کرایا۔پھر قرآن موجود ہے جس میں وہ تمام انوار اور برکات پائے جاتے ہیں جو اسلام اپنے ماننے والوں کے دلوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔پھر اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ تمہارے سامنے کئی نشانات ظاہر کئے تا کہ وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کو نہیں دیکھا تھا ان نشانات کو دیکھ کر پھر اس یقین پر قائم ہو جائیں کہ ہمارا خدا ویسا ہی زندہ ہے جیسے پہلے زندہ تھا اور ویسی ہی طاقتیں رکھتا ہے جیسی طاقتیں پہلے رکھتا تھا۔پس اپنے اندر نیک تغیرات پیدا کرو، ورنہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ انقلاب ہونا ضروری ہے اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی کا گھر گرایا جا رہا ہو تو بادشاہ کہہ دے کہ اس گھر کو لوٹ لو۔اس وقت دنیا کا تمدن، دنیا کی تہذیب اور دنیا کا اقتصاد اپنی موجودہ شکل میں تباہ و برباد ہو رہا ہے سوال صرف یہ ہے کہ اس کوٹ میں تم کتنا حصہ لے رہے ہو۔یہی وہ چیز ہے جس کی تمہیں فکر کرنی چاہئے اور اسی چیز کا تمہارے ساتھ تعلق ہے۔باقی جس قدر حصے ہیں اُن کی پرواہ مت کرو اور یہ خیال نہ کرو کہ لوگ ان باتوں کو نہیں مانیں گے۔اگر وہ نہیں مانیں گے تو خدا تعالیٰ ان کو تباہ کر دے گا لیکن اگر ہم ان تک اسلامی تعلیم کو صحیح طور پر نہیں پہنچائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے حضور ہم جواب دہ ہوں گے۔پس ان چیزوں کے لئے کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ سے ہر وقت دعا ئیں بھی کرتے رہو۔عشق خدا میں فنا ہو جاؤ اس انقلاب کے متعلق ایک انکشاف میں نے اس جلسہ سالانہ کی تقریر میں کیا تھا اور بتایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نظام نو کی بنیاد ۱۹۰۵ء میں الوصیت کے ذریعہ رکھ دی ہے۔ان مضامین کو پڑھو، یا د کرو، لوگوں تک پہنچاؤ اور بار بار پہنچاؤ یہاں تک کہ دنیا کی نگاہ میں تم وحشی مومن بن جاؤ۔مومن وحشی نہیں ہوتا مگر دنیا کی نگاہ میں وہ ضرور وحشی سمجھا جاتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم وحشی بن جاؤ۔میں یہ کہتا ہوں تم ایسے بن جاؤ کہ دنیا تمہیں وحشی مومن