خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 736
خطابات شوری جلد دوم ۷۳۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء سمجھے اور یہی ایمان کی تکمیل کی علامت ہوتی ہے اور یہی ایمان انسان کی دائمی حیات کا موجب ہوتا ہے۔لوگ مرتے ہیں تو بعد میں اُنہیں کوئی یاد بھی نہیں رکھتا۔خود اُن کی اولاد اُنہیں بھول جاتی ہے مگر وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے عشق میں فنا ہو کر ہمیشہ کی زندگی حاصل کر لیتے ہیں وہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جاتے ہیں اور ایسے زندہ ہوتے ہیں کہ پھر موت کا ہاتھ اُن پر نہیں چل سکتا۔دیکھو حضرت کرشن علیہ السلام خدا تعالیٰ کے نبی تھے۔وہ آج سے کئی ہزار سال قبل ہندوستان میں مبعوث ہوئے۔اسی طرح حضرت رام چندر خدا تعالیٰ کے نبی تھے مگر ان دونوں انبیاء کا نام بظاہر مٹ چکا تھا اور مسلمان یہ سمجھنے سے قاصر ہو گئے تھے کہ یہ لوگ اللہ تعالی کے فرستادہ اور اس کے پاک رسول تھے مگر اب اللہ تعالیٰ نے کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ان کے ذکر کو پھر تازہ کر دیا اور انہیں ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا۔اب ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ جہاں اور انبیاء پر اعتقاد رکھے وہاں یہ اعتقاد بھی رکھے کہ حضرت کرشن اور حضرت رام چندر بھی اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔اس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کو پھر ایک نئی زندگی مل گئی۔لوگ مرتے ہیں اور مرتے چلے جاتے ہیں مگر ان لوگوں کی موت پر جب ایک لمبا عرصہ گزر گیا تو خدا تعالیٰ نے اپنا ایک مامور مبعوث فرما کر اُن کے ذکر کو پھر تازہ کر دیا۔اور اس طرح ثابت کر دیا کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے عشق میں اپنے آپ کو فنا کر دیتے ہیں اور اُس کی رضا کے لئے اپنے آپ کو مٹا دیتے ہیں وہ کبھی مر نہیں سکتے۔موت اُن پر قابو نہیں پاسکتی وہ حیات ابدی کے وارث ہوتے ہیں اور ان کا ذکر ہمیشہ نیکی کے ساتھ لوگوں کی زبانوں پر جاری رہتا ہے۔پس اپنے اندر نیکی پیدا کرو، خدا تعالیٰ کے لئے اپنے اموال کو بلا دریغ قربان کرنے کی روح پیدا کرو، اپنی زندگی کا مقصد خدا تعالیٰ کے عشق میں فنا ہونا قرار دو اور یہ سمجھ لو کہ مال وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ ہو، علم وہی ہے جو معرفت اور ایمان پیدا کرنے کا موجب ہو اور زندگی وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو۔یہ چیزیں اپنے اندر پیدا کرو اور عواقب سے نڈر ہو جاؤ۔ہماری عاقبت محفوظ ہے کیونکہ ہماری عاقبت خدا نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ہمارا کام صرف جدو جہد اور کوشش کرنا ہے۔بالفاظ دیگر ہمارا صرف اتنا ہی فرض ہے کہ ہم بظاہر کچھ کرتے نظر آئیں ورنہ کام تو سب خدا نے کرنا ہے۔اور