خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 60
خطابات شوری جلد دوم ۶۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء ہیں اور سُود پر قرضہ حاصل کر لیتے ہیں لیکن یہاں جو انجمن کے کارکن ہیں وہ نہ سُودی لین دین کر سکتے ہیں اور نہ قرض لے سکتے ہیں۔ان کی تنخواہوں کا ایک سال تک رُک جانا یا دفاتر کے سائز اخراجات نہ ملنا اور اس وجہ سے کاموں کا رُک جانا خوشگوار نتائج پیدا نہیں کر سکتا۔اور بظاہر وہی نظارہ پیدا ہو سکتا ہے سوائے اس کے کہ خدا تعالی مدد کرے جو حافظ روشن علی صاحب مرحوم نے ایک ریاست میں دیکھا۔انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو رات کوسرکاری وردی پہن کر پہرہ دیتا اور دن کو بھیک مانگتا اُنہوں نے اُس سے پوچھا تمہارے اس طریق عمل کا کیا مطلب ہے؟ اُس نے کہا میں سرکاری ملازم ہوں مگر دو سال سے مجھے تنخواہ نہیں ملی ، نہ ملازمت سے علیحدہ کیا جاتا ہے ایسی حالت میں بھیک نہ مانگوں تو اور کیا کروں؟ مجسٹریٹ رشوتیں لے لیتے ہیں، پولیس والے بھی لوگوں کو لوٹ کھسوٹ لیتے ہیں مگر ہمارے لئے کوئی صورت نہیں اس لئے میں رات کو پہرہ دیتا ہوں اور دن کو بھیک مانگتا ہوں۔بظاہر ہماری مالی حالت اسی مقام پر پہنچی ہوئی نظر آ رہی ہے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ ہم اپنے جاری شدہ کاموں کو بند نہیں کر سکتے۔اگر ہم نے اس طرف قدم اٹھایا تو پھر ہمارا کوئی ٹھکانا نہیں رہ سکتا۔جب ہم کسی ایک کام کو غیر ضروری قرار دے کر ترک کر دیں گے تو دوسرا کام اس سے بھی زیادہ غیر ضروری نظر آئے گا پس ہمارے لئے یہ طریق بھی کھلا نہیں اور نہ ہم اسے اختیار کر سکتے ہیں۔قابلِ غور سوال یہ ہے کہ ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ نے عظیم الشان کام کرنے کے لئے پیدا کیا ہے نہ کہ نکما رہنے کے لئے۔باقی جماعتیں اپنے لئے آپ کام تجویز کرتی ہیں، اس لئے وہ جس کام کو چاہیں چھوڑ سکتی ہیں مگر ہمارے لیئے کام خدا تعالیٰ نے تجویز کیا ہے اور اس کے لئے قربانی کرنا ہمارے ذمہ رکھی ہے۔اس تقسیم عمل کے رو سے ہمارے لئے ایک ہی رستہ کھلا ہے اور وہ یہ کہ ہم زیادہ سے زیادہ قربانیاں کریں اور باقاعدہ کریں۔جیسا کہ ناظر صاحب نے بتایا ہے تین ہزار سے زیادہ ایسے افراد ہیں جن کی وجہ سے چندہ میں کمی آئی ہے۔یہ بہت اہم سوال ہے جس کی طرف دوستوں کو توجہ کرنی چاہئے۔اگر ہم اپنا بہت سا وقت اس پر لگا دیں کہ پانچ روپے فلاں مد سے کم کر دیئے جائیں اور سات فلاں سے تو اس سے کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا۔یہ تو ہم خود بھی سب کمیٹی میں کر لیا کرتے ہیں اور اب حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ