خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 61
خطابات شوری جلد دوم ۶۱ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء تخفیف چند سو روپیہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی اور اس پر بھی زیادہ زور نہیں دیا جا سکتا۔اس لئے ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ احباب مشورہ دیں کہ کیا وجہ ہے کہ تمام جماعتیں با قاعدہ چندہ نہیں دیتیں اور کیوں بجٹ کے پورا ہونے میں کمی رہ گئی ہے۔کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ آٹھ نو سو جماعتوں میں سے چند اور وہ بھی چھوٹی چھوٹی ایسی ہیں جنہوں نے اپنا بجٹ پورا کیا اور ۵۰ فیصدی ایسی ہیں جن کے لئے امکان ہے کہ اپنا بجٹ پورا کر سکیں اور باقی پچاس فیصدی ایسی ہیں جن کے لئے ناممکن ہے کہ اپنا بجٹ پورا کر سکیں حالانکہ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ آمد کا بجٹ جو تجویز ہوتا ہے وہ کم ہوتا ہے۔اگر جماعتیں باقاعدگی سے چندہ دیں تو اس سے ڈیڑھ گنا زیادہ بجٹ ہونا چاہئے۔پس جبکہ بجٹ پہلے خود ہی ۳۳ فیصدی کم رکھا جاتا ہے اسے بھی ۵۰ فیصدی کم کر دیا جائے تو کام کس طرح چلے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے کہا کہ تم دوسروں کی آنکھ کا تنکا دیکھتے ہو مگر اپنی آنکھ کا شہتر نہیں دیکھتے۔کل آپ لوگوں نے ناظر بیت المال کی آنکھ کا تنکا دیکھا آج اپنی آنکھ کا شہتیر دیکھو۔ان کے تیار کردہ بجٹ کی کتابت کی غلطیاں نکالی گئیں مگر آپ لوگوں کی غلطیاں ایسی ہیں کہ اگر انہیں دُور نہ کیا گیا تو آج نہیں تو کل کام بند کرنا پڑے گا اس لئے آپ لوگوں کو اس نتیجہ پر پہنچنا چاہئے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے۔اس کے متعلق صدر انجمن احمدیہ کی ذمہ داری یہ ہے کہ جو لوگ نادہند اور کمزور ہیں اُن کا بھی خیال رکھا جائے۔میں بار بار انجمن سے کہتا رہا ہوں کہ بعض رقوم الگ کر کے جمع رکھو۔۱۹۲۲ء یا ۱۹۲۳ء میں میں نے مشورہ دیا تھا کہ پانچ سو یا اس سے زیادہ وصیت کی جو رقم وصول ہو اُسے الگ جمع رکھو۔اگر اس مشورہ پر عمل کیا جاتا تو آج اس کمی کو جو ہو گئی ہے اس فنڈ سے پورا کر سکتے تھے مگر اس مشورہ کی پرواہ نہ کی گئی۔عارضی تکلیف جو انجمن کو پیش آجاتی اُس کی وجہ سے ایسی رقوم خرچ کر دیتے رہے ہیں۔آج اس سے بھی بدتر حالت ہوتی اگر میں زور ڈال کر کئی جائدادیں انجمن کو نہ خرید وا دیتا۔اب وہ جائداد میں بڑی قیمت پر بک رہی ہیں اور ۳۰،۲۵ ہزار کا قرضہ اس طرح ادا کیا گیا ہے۔اب بھی جو جائدادخریدی گئی ہے اور جس میں ریتی چھلہ کی زمین بھی شامل ہے جس کے متعلق مقدمہ چل رہا ہے، وہ بڑی قیمت رکھتی ہے۔اب چار ماہ کی تنخواہ ابھی تک باقی ہے۔مبلغ باہر جانے سے اس لئے ڑکے ہوئے ہیں کہ ان کے لئے کرایہ نہیں۔ڈاک روانہ کرنے میں مشکلات ہیں کیونکہ