خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 721
خطابات شوری جلد دوم ۷۲۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء پھر ہر سال ڈیڑھ دو لاکھ روپی ریز روفنڈ کے طور پر جمع کرتے چلے جائیں تا کہ ہم چند سال کے بعد قادیان میں اپنا کالج کھول سکیں اور اس کے اخراجات آسانی سے برداشت کر سکیں۔اسی طرح نئے مبلغین رکھنے کا جو سلسلہ مالی تنگی کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا اُسے بھی جاری کر دیا جائے۔سب کمیٹی بیت المال کی رپورٹ میں ایک بات یہ بیان کی گئی ہے کہ گریڈ کی زیادتی کے بغیر ہمیں اچھے استاذ نہیں مل سکتے۔اگر اساتذہ کے گریڈوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو وہ بھاگ جائیں گے اور گورنمنٹ سکولوں میں اچھی تنخواہوں پر ملازم ہو جائیں گے۔میرے نزدیک یہ بات اول تو غلط ہے لیکن اگر فرض کر لیا جائے کہ بعض اسا تذہ کے اندر اس قسم کے خیالات پائے جاتے ہیں تو اس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنے ہیں کہ وہ دین کے لئے قربانی کرنے کو تیار نہیں اور جو لوگ اس قسم کے ہوں کہ دین کے لئے قربانی کرنا اُنہیں مشکل دکھائی دے، اُنہوں نے اگر کل جانا ہے تو بے شک آج ہی چلے جائیں۔اُن کی جگہ اگر ہمیں ویسی لیاقت رکھنے والے اساتذہ نہیں ملیں گے تو کم سے کم وہ لوگ تو ملیں گے جو روحانیت اور اخلاص میں ان سے اچھے ہوں گے اور روحانیت اور اخلاص میں اچھے ہوں گے تو یقیناً ان کے نتائج بھی موجودہ نتائج سے بہتر ہوں گے۔اگر اساتذہ قربانی کر رہے ہیں تو اور کونسا محکمہ ہے جس میں کام کرنے والے قربانی نہیں کر رہے۔مبلغین بھی اپنی قابلیتوں سے بہت کم تنخواہ لیتے ہیں، پھر کل کو وہ بھی بھاگنے لگ جائیں گے۔کلرکوں کو بھی کم تنخواہ ملتی ہے وہ بھی یہاں سے بھاگنے لگ جائیں گے۔کارکنوں کو بھی بہت تھوڑی تنخواہیں ملتی ہیں وہ بھی اس وجہ سے بھاگ جائیں گے۔اگر یہ بندٹوٹ چکا ہے تو پھر اساتذہ پر ہی منحصر نہیں سب لوگ بھاگنا شروع کر دیں گے اور کوئی شخص اتنے قلیل معاوضہ پر کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا مگر یہ بالکل غلط خیال ہے اور خدا اور اُس کے سلسلہ پر بدظنی ہے۔ہمارے سلسلہ کا انحصار آدمیوں پر نہیں بلکہ خدا پر ہمارے سلسلہ کا انحصار خدا پر ہے ہے اور خدا تعالیٰ ہمیشہ غیب در غیب سامانوں سے ہمارے سلسلہ کی مدد کرتا چلا آیا ہے۔اگر تمام کے تمام اساتذہ یہاں سے چلے جائیں اور کام چھوڑ دیں تو مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں ان کی جگہ اور آدمی دے دے گا جو اپنے