خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 722
خطابات شوری جلد دوم ۷۲۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء اخلاص اور قربانیوں میں ان سے بدرجہا بہتر ہوں گے۔بے شک جہاں تک حقوق کا سوال ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم اساتذہ کا خیال رکھیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم محض اس لئے ان کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا شروع کر دیں کہ اگر اُن کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو وہ یہاں سے بھاگ جائیں گے۔میرے نزدیک یہ بالکل غلط خیال ہے کہ مدرسین پہلے بھی تکلیف سے گزارہ کرتے رہے ہیں اور اب بھی تکلیف سے گزارہ کرتے ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ مدرسین نے ان کارکنوں کے مقابلہ میں بہت کم قربانی کی ہے۔آٹھ دس سال تک ایسا ہوتا رہا کہ اور کارکنوں کی تنخواہوں میں تو تخفیف اور کٹوتیاں وغیرہ ہو جاتی تھیں مگر مدرس یہ کہہ کر چھوٹ جاتے تھے کہ اگر ہماری تنخواہوں میں کمی کی گئی تو انسپکٹر سکول کی ایڈ بند کر دے گا اور صدر انجمن احمد یہ بھی ڈر کر اُن پر اپنا قانون جاری نہیں کرتی تھی لیکن پھر بھی اگر بعض لوگوں کا یہ خیال ہو کہ تنخواہوں یا گریڈوں میں اضافہ نہ ہونے کی صورت میں مدرس یہاں سے بھاگ جائیں گے تو میں انہیں کہتا ہوں میں اس امر کا ذمہ دار ہوں کہ اگر یہ لوگ بھاگ جائیں تو ان کی جگہ نئے اساتذہ میں مہیا کروں گا۔میں نے احمدیت کا تجربہ کیا ہوتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے سلسلہ کے کاموں میں کبھی کوئی ایسی روک پیدا نہیں ہو سکتی جو حقیقی روک ہو۔جس دن تم مجھے آکر کہو گے کہ مدرس یہاں سے بھاگ رہے ہیں، اُسی دن شام سے پہلے پہلے میں نئے استاد مہیا کر دوں گا۔پس یہ بالکل غلط خیال ہے جس کا اظہار کیا گیا ہے بے شک ہمارا فرض ہے کہ ہم اُن پر کسی قسم کا ظلم نہ ہونے دیں اور اُن کے حقوق کا خیال رکھیں۔مگر صرف اس وجہ سے کہ ہماری آمد میں اضافہ ہو گیا ہے تنخواہوں اور گریڈوں کو بڑھانا شروع کر دینا مناسب نہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اس روپیہ کو پس انداز کریں اور ایک ریز رو فنڈ قائم کریں تا کہ سلسلہ کی ضروریات کے لئے وہ کام آسکے اور ہنگامی اخراجات اس کے ذریعے پورے ہوتے رہیں۔ایک اور امر جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ مجلس شوریٰ کے پروگرام کو دیکھ کر میں نے محسوس کیا ہے کہ اس پروگرام کی موجودگی میں بجٹ پر غور کرنے کے متعلق جماعت کو کافی وقت نہیں ملتا۔بجٹ ایک ایسی چیز ہے جس کا تمام جماعت کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اور لوگوں کو اس بات کا موقع ملنا چاہئے کہ وہ اس پر اچھی طرح غور کر سکیں اور اس بارہ