خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 715 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 715

۷۱۵ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء اتنا بڑا فرق کس لئے پیدا ہو گیا؟ میرے نزدیک گو اس کی اور بھی وجوہ ہوں مگر اس کی بہت بڑی ذمہ داری اُن ماں باپ پر بھی ہے جنہوں نے اس وقت تقریریں کی ہیں۔انہوں نے لڑکوں کو دینی قربانی سے روکا اور اس کے بوجھ کو اُن کے امتحانات کی کامیابی میں روک سمجھ لیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دونوں لحاظ سے گر گئے۔اگر یہ بوجھ ان پر رہنے دیا جاتا تو وہ اسلام کے بہادر سپاہی بنتے اور اُن کے کندھے دین کا بوجھ اُٹھانے کے لئے ہر وقت تیار رہتے۔اس وقت عمارتوں وغیرہ کے متعلق بھی دوستوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے کہ یہ اخراجات ضروری ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ ان اخراجات کے بغیر چارہ نہیں۔اس کے متعلق غور تو میں بعد میں کروں گا مگر میں سمجھتا ہوں اس میں بہت حد تک ہمارے دفاتر کی کو تا ہی کا دخل ہے آج سے چھ یا نو ماہ پہلے میں نے ناظر تعلیم و تربیت سے کہا کہ اگر لڑکوں کے بیٹھنے کے لئے کمرے نہیں تو کچے مکان بنا لو اور چھت پر سرکنڈے ڈال لو آخر ہم پر لڑکوں پر کو کسی مکان میں بٹھانا فرض ہے۔یہ فرض تو نہیں کہ وہ مکان پختہ ہو اور اس پر ہزاروں روپیہ خرچ کیا گیا ہو۔میں نے ان سے کہا کہ ہمارے سکول کی تو پھر بھی ایک شاندار عمارت شانتی نکیتین جو ہندوؤں کا کالج ہے اُس میں تو لڑکے درختوں کے نیچے بیٹھ کر ہے۔پڑھتے ہیں پھر ہم اپنے لڑکوں یا لڑکیوں کو کیوں کچے مکانوں میں نہیں بٹھا سکتے۔مگر میری اس بات کی طرف توجہ نہ کی گئی۔اسی طرح آٹھ سال ہو گئے میں نے ناظر تعلیم و تربیت سے کہا کہ نصرت گرلز سکول کے پاس جو زمین ہے وہ خرید لو۔چونکہ یہ زمین سکول کے بالکل قریب ہے اس لئے سکول کی ضروریات کے کام آجائے گی مگر اُس وقت میری اس بات کی طرف بھی کوئی توجہ نہ کی گئی۔اب ایک احمدی نے اس زمین کو خرید لیا اور اُس نے وہاں اپنا مکان بنانا چاہا تو صدرانجمن احمد یہ کو بھی خیال آگیا کہ یہ زمین ہمیں خریدنی چاہئے تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ اب صرف ایک کنال زمین دو ہزار روپیہ میں خریدی گئی ہے حالانکہ اُس وقت ساری زمین دو ہزار روپیہ میں مل سکتی تھی اور اب غالباً ساری زمین خریدنے پر دس بارہ ہزار روپیہ صدرانجمن احمدیہ کو خرچ کرنا پڑے گا اور عمارت بنانے پر تو شاید تمیں چالیس ہزار روپیہ خرچ کرنا پڑے کیونکہ اب ہر چیز گراں ہو گئی ہے۔اب نئی عمارتوں کے سلسلہ میں دو ہزار روپیہ مانگا جاتا ہے حالانکہ