خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 714 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 714

خطابات شوری جلد دوم ۷۱۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء کا بھی قصور ہے جنہوں نے میرے وہاں ٹھہرنے پر اعتراضات کئے اور یہ کہا کہ اس طرح لڑکوں کی تعلیم میں حرج واقع ہوتا ہے۔اب انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ اس کا کیا نتیجہ ہوا۔میرا تجربہ یہی ہے کہ قربانی سے ہی انسان کا دماغ ترقی کرتا ہے۔اگر قربانی نہ ہو اور آرام اور سہولتیں میسر ہوں تو یہ چیزیں انسان کو سُست تو بنا دیتی ہیں مگر اسے قابل نہیں بنا تیں۔کم سے کم دین میں ایسا انسان کوئی نمایاں مقام حاصل نہیں کرسکتا۔مجھے خوب یاد ہے میں ایک دفعہ امتحان کے دنوں میں لاہور گیا تو لڑکوں نے امتحان کا کام چھوڑ دیا مگر باوجود اس کے اُن کے نتائج آجکل کے نتائج سے بہت اچھے ہوا کرتے تھے۔وہ نوجوان آج بھی موجود ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ کے سرگرم کارکن ہیں مگر اب جو طالب علم لاہور میں پڑھ رہے ہیں مجھے اُن میں کوئی اس پایہ کا نظر نہیں آتا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اُن کو قربانی سے بچانے کی کوشش کی گئی۔اگر اُن کو قربانی سے بچانے کی بجائے زیادہ سے زیادہ قربانی سے کام لینے کی عادت ڈالی جاتی تو پھر بھی وہ امتحانات میں پاس ہو جاتے مگر مزید فائدہ یہ ہوتا کہ اُن کی دینی حالت سدھر جاتی۔چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے ابھی ذکر کیا ہے کہ جن دنوں یہاں ابتداء میں غیر احمدیوں کا جلسہ ہوا تو جو کالجیئٹ اُن دنوں لاہور سے قادیان آئے تھے اُن کی انہوں نے فہرست بنا لی تھی اور وہ کہتے ہیں کہ اُن طالب علموں میں سے ایک بھی امتحان میں فیل نہ ہوا حالانکہ وہ امتحان کے دن تھے۔تو در حقیقت روحانی سلسلے قربانیوں کے ذریعہ ہی ترقی کیا کرتے ہیں۔اعتراض کرنے والوں نے بے شک اعتراض کر دیا مگر اس کا کیا نتیجہ نکلا ؟ وہی لڑکے جن کی خاطر یہ اعتراض کیا گیا تھا روحانی لحاظ سے گر گئے اور اُن کے امتحانات کے نتائج بھی اچھے نہ رہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے میرے احمد یہ ہوسٹل میں ٹھہرنے کی یہ وجہ نہیں ہوا کرتی تھی کہ مجھے ٹھہرنے کے لئے اور کوئی جگہ نہیں ملتی تھی۔جگہیں تو بیسیوں ملتی تھیں مگر محض اس وجہ سے کہ لڑکوں میں دینی جوش قائم رہے میں بجائے کسی اور جگہ ٹھہرنے کے احمد یہ ہوسٹل میں ٹھہرا کرتا تھا اور میں نے دیکھا ہے کہ اُس وقت لڑکوں کی طرف سے یہ درخواستیں آیا کرتی تھیں کہ دعا کریں ہمیں تہجد پڑھنے کی توفیق مل جائے مگر آجکل یہ کہا جاتا ہے کہ دعا کریں لڑکوں کو پانچ نمازوں میں سے ایک نماز پڑھنے کی توفیق مل جائے۔آخر یہ تغیر کیوں ہوا اور