خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 706 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 706

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء کوتا ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ بجٹ وقت پر تیار نہیں ہوتا اور نہ باہر کی جماعتوں کو بھیجا جا سکتا ہے۔اگر قواعد کی پابندی کی جائے تو یہ مشکلات بھی پیش نہ آئیں اور باہر کی جماعتوں کو بھی بجٹ پر غور کرنے کا کافی وقت مل جائے۔میرے پاس بھی اس سال کا بجٹ مجلس شوری سے صرف ایک دن پہلے پہنچا اور میں نے اسے دیکھتے ہی کہہ دیا کہ یہ بجٹ میری ہدایت کے خلاف بنایا گیا ہے۔میری ہدایت یہ تھی کہ ۴۲۔۱۹۴۱ ء کے خرچ کے بجٹ پر اضافہ کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی۔جب تک کہ قرض دُور نہ ہو سوائے استثنائی صورتوں کے۔بلکہ میری ہدایت یہ بھی تھی کہ ۴۲۔۱۹۴۱ء کے خرچ کے بجٹ سے ۱۵ ہزار روپیہ کم رکھا جائے مگر اس میں بجائے ۴۲ - ۱۹۴۱ء کے خرچ کے بجٹ پر بنیا د رکھنے کے گزشتہ سال کے بجٹ سے بھی ایک لاکھ 9 ہزار ۶۶۴ کی زیادتی کر دی گئی ہے۔یہ زیادتی کس کے حکم سے ہوئی ہے؟ میرے اس جواب طلب کرنے پر صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے کہا گیا کہ انہوں نے میری کسی بات سے یہ سمجھا تھا کہ بجٹ ۴۴ ۱۹۴۳ء کی بنیاد کوئی خاص رقم نہ ہوگی بلکہ جس طرح گزشتہ سال میں نے خود غور کر کے بجٹ منظور کیا تھا اسی طرح اس دفعہ بھی مجلس جو ضروری اخراجات خیال کرے گی وہ میرے سامنے پیش کر دے گی اور میں غور کر کے بجٹ کو منظور کر لوں گا۔گویا صدر انجمن احمدیہ نے جواب یہ دیا کہ انہوں نے یہ سمجھا تھا کہ بجٹ ۴۴۔۱۹۴۳ء کی بنیا د ۴۳ ۱۹۴۲ء کے بجٹ کے اخراجات پر ہوگی ، ۴۲۔۱۹۴۱ء کے خرچ کے بجٹ پر بنیاد نہیں ہوگی۔میں نے انہیں کہا کہ جہاں تک انسانی عقل کا سوال ہے میں یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ آپ لوگوں کا یہ جواب درست ہے کہ ہم نے یہ سمجھا تھا کہ پہلا قاعدہ منسوخ ہو گیا ہے۔وہ قاعدہ موجود تھا۔اس بارہ میں میری ہدایات واضح تھیں اور میں یہ حکم دے چکا تھا کہ آئندہ ۴۲۔۱۹۴۱ ء کے خرچ کے بجٹ پر اضافہ کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی جب تک کہ قرض دُور نہ ہو سوائے استثنائی صورتوں کے۔پھر انہوں نے یہ کس طرح سمجھ لیا کہ یہ قاعدہ منسوخ ہو چکا ہے اور خود بخود بجٹ اخراجات ۴۴۔۱۹۴۳ء کی بنیاد ۴۳ ۱۹۴۲ء کے بجٹ اخراجات پر رکھ دی۔پھر یہ ایک عجیب بات ہے کہ جو بات اُنہوں نے سمجھی تھی اُس کے مطابق بھی انہوں نے بجٹ تیار نہ کیا بلکہ گزشتہ سال کے بجٹ اخراجات سے سائر مستقل عملہ کی معمولی سالانہ ترقیوں اور قحط الاؤنس وغیرہ کو ملا کر