خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 707 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 707

مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء خطابات شوری جلد دوم ساٹھ ہزار کے قریب اس سال کا بجٹ بڑھا دیا حالانکہ جب وہ کہہ رہے تھے کہ ہم نے سمجھا یہ تھا کہ ہمیں اس سال کے بجٹ کی بنیاد گزشتہ سال پر رکھنی چاہئے تو کم سے کم انہیں اتنا تو چاہئے تھا کہ اخراجات کا بجٹ گزشتہ سال سے نہ بڑھاتے مگر یہ سمجھنے کے باوجود انہوں نے ساٹھ ہزار کے قریب روپیہ گزشتہ سال کے اخراجات کے بجٹ سے بھی زائد کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے۔آپ فرماتے تھے کوئی شخص کسی باغ کی طرف سے آرہا تھا اور اُس کے سر پر انگوروں کا ایک ٹوکرا تھا، اتفاقاً راستہ میں باغ کا مالک مل گیا اور اس نے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ میرے باغ میں سے یہ شخص انگور چرا کر گھر لئے جا رہا ہے۔چنانچہ مالک نے اُس سے پوچھا کہ بتاؤ میرے باغ سے انگور کیوں لئے جاتے ہو؟ وہ کہنے لگا آپ ناراض نہ ہوں پہلے میری بات سن لیں اور پھر جو جی چاہے کہیں۔اس نے کہا بہت اچھا بتاؤ کیا واقعہ ہوا؟ وہ کہنے لگا بات یہ ہوئی کہ میں جا رہا تھا کہ بگولا آیا اور اُس نے مجھے اُٹھا کر آپ کے باغ میں پھینک دیا۔اُس نے کہا پھر۔وہ کہنے لگا پھر ایسا اتفاق ہوا کہ جہاں میں آکر گرا وہاں انگوروں کی بیلیں تھیں آپ جانتے ہیں ایسے وقت انسان اپنی جان بچانے کے لئے ادھر اُدھر ہاتھ مارتا ہے۔میں نے جو ادھر اُدھر ہاتھ مارے تو بیلوں سے انگور گر گر کر ایک ٹوکرے میں جو پہلے سے وہیں پڑا تھا اکٹھے ہونے شروع ہو گئے اب بتائیے اِس میں میرا کیا قصور ہے؟ مالک نے کہا یہاں تک تو جو کچھ ہوا ٹھیک ہوا۔مگر تم یہ بتاؤ تمہیں یہ کس نے کہا تھا کہ وہ ٹوکرا اُٹھا کر اپنے گھر کی طرف چل پڑو؟ انگوروں والے نے جواب دیا کہ میں بھی یہی سوچتا چلا آ رہا تھا کہ مجھے یہ کس نے کہا ہے کہ اپنے گھر کی طرف انگور لے جاؤ۔یہی حال صدر انجمن احمدیہ کا ہے۔وہ کہتے ہیں ہم نے سمجھا تھا کہ اس سال کے بجٹ کی بنیاد گزشتہ سال پر رکھنی ہے مگر جب میں نے پوچھا کہ اگر آپ لوگوں نے یہی کچھ سمجھا تھا تو پھر گزشتہ سال کے بجٹ اخراجات سے یہ ساٹھ ہزار کا اضافہ کس طرح ہو گیا، بلکہ تمام جدید اخراجات کو شامل کر کے ایک لاکھ نو ہزار چھ سو چونسٹھ کا اضافہ کس طرح ہو گیا۔تو وہ کہتے ہیں کہ ہم بھی حیران ہیں کہ یہ زیادتیاں کس طرح ہوئیں۔بہر حال یہ صدر انجمن احمدیہ کی غفلت کی علامت ہے اور اس کے ممبر جو بات سمجھے تھے بجٹ بناتے وقت انہوں نے اس کے بھی خلاف عمل کیا۔درحقیقت اس کو تا ہی میں بہت سا