خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 55
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء مجھے اس کا جواب محبت سے دینا چاہئے۔اس کے مقابلہ میں دیکھ لوکس قدر اخلاقی تعلیم دی جاتی ہے۔جب تک اس قسم کے شعروں کے زہر کے لئے تریاق نہ تیار کر لیا جائے ، ان کے بداثرات سے کس طرح بچا سکتے ہیں۔میں جب ولایت گیا تو ایک عورت میرے پاس آئی اور اُس نے کہا قرآن میں مرد و عورت کے تعلقات کا ذکر ہے پھر ایک لڑکی اسے کس طرح پڑھ سکتی ہے؟ میں نے وہ آیتیں پڑھ کر اُسے بتایا کہ اس طرح محتاط رنگ میں اِن ضروری امور کے متعلق دلائل دیئے گئے ہیں مگر تم جو شعر پڑھتی ہو اُن میں کھلم کھلا سب کچھ کہا جاتا ہے۔یہ ۱۹۲۴ء کی بات ہے۔اس کے بعد ایک آگ لگی اور بکثرت ایسی کتابیں لکھی گئیں جن میں زور دیا گیا کہ ان باتوں سے لڑکیوں کو آگاہ کرنا ضروری ہے ورنہ وہ تباہ ہو جائیں گی۔پس تریاق پیدا کرنا ضروری ہے۔یہاں لڑکیاں چونکہ مجھے حالات کی اطلاع دیتی رہتی ہیں اس لئے نقائص کا مجھے علم ہوتا رہتا ہے۔اسی سلسلہ میں مجھے معلوم ہوا کہ اُستانیوں میں ایک مرض سہیل اپنے کا پایا جاتا ہے۔ایسی اُستانیاں کوئی نہ کوئی سہیلی لڑکیوں میں سے بنا لیتی ہیں اور پھر اظہار محبت کے لئے ہائے میری پیاری وغیرہ کہنا اور با ہیں گلے میں ڈال کر پھرنا شروع کر دیتی ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ بُرے جذبات کے ماتحت ایسا کرتی ہیں۔مگر اُستانی اور شاگرد کے اظہار محبت کا یہ طریق ہی کیا ہے۔آپ لوگوں کو بھی مجھ سے محبت ہے لیکن کیا اس طرح کبھی ہوا ہے۔مجھے مولوی عبد الرحیم درد صاحب کے والد صاحب کے جو ہمارے اُستاد تھے دوسبق ابھی تک یاد ہیں اور ان کو یاد کر کے ہمیشہ ان کے لئے دعا نکلتی ہے۔وہ ایک دن سکول میں پڑھا رہے تھے کہ لڑکے جس طرح ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں میں نے بھی ایک لڑکے کے کندھے پر ہاتھ رکھا جس سے اُنہوں نے مجھے سختی سے روکا مگر یہاں سنا ہے کہ ایک دوسری کی گردن میں باہیں ڈال کر بیٹھتی ہیں۔مجھے اطلاع ملتی رہتی ہے کہ فلاں استانی کا فلاں لڑکی سے جھگڑا ہو گیا جس سے اُسے محبت تھی۔پھر جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس قسم کی مشکلات اُستانیوں کے متعلق ہی نہیں انکو تو ہم بدل بھی سکتے ہیں ، سکول کی تعلیم میں بھی مشکلات ہیں جو ابھی تک دور نہیں ہوئیں۔دیکھو ایک عقلمند جب باغ لگا تا ہے تو اتنے