خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 679
۶۷۹ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء میں نے پوچھا کیا بات ہے، تم ریوڑیاں اتنی حرص سے کیوں کھا رہے ہو؟ وہ کہنے لگا بات یہ ہے کہ میں نے سُنا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ریوڑیاں بہت پسند تھیں اس لئے میں نے بھی ریوڑیاں کھانی شروع کر دی ہیں۔میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو ایسٹین سیرپ بھی پیا کرتے تھے وہ کیوں نہیں پیتے ؟ آخر میٹھی چیز تمہیں کیوں یاد آگئی اور کڑوی چیز کیوں بھول گئی محض اس لئے کہ میٹھی چیز کھانے کو تمہارا اپنا دل چاہتا ہے مگر تم بہانہ یہ بناتے ہو کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ریوڑیاں پسند تھیں اس لئے میں بھی کھا رہا ہوں۔تو عورتوں سے بدسلوکی کرتے وقت مردوں کی طرف سے اس قسم کے عذرات کا پیش ہونا محض ایک بہانہ ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ عورتوں سے گندہ سلوک کرتے ہیں وہ ان کے ایمان کو کمزور کرنے اور انہیں اسلام سے بدظن کرنے کا موجب ہوتے ہیں اور اگر وہ اپنی اصلاح نہ کریں تو یقیناً خدا تعالیٰ کے حضور گنہگار ہوتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ قضاء میں بھی بالعموم جب میاں بیوی کے جھگڑے ہوتے ہیں تو اُس کے فیصلوں میں کسی قدر جُھکا ؤ مرد کی طرف ضرور پایا جاتا ہے حالانکہ اگر عورتوں کے حقوق کی نگہداشت کی جائے تو کبھی میاں بیوی کے جھگڑے قضاء میں نہ آئیں۔کبھی گھروں میں بدمزگی پیدا نہ ہو، کبھی آپس کے تعلقات کشیدہ نہ ہوں بلکہ جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ گھر جنت کا نمونہ بن جائیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ جنت عورت کے قدموں کے نیچے ہے اس کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ اگر عورت کا پاؤں گھر سے باہر نکلا تو وہ گھر تمہارے لئے جنت نہیں رہے گا ، اگر تم اپنے گھروں کو جنت بنانا چاہتے ہو تو یا د رکھو عورتوں کو اُن کے جائز حقوق دو اور اُن سے محبت اور پیار کا سلوک کرو ور نہ یہ جنت تمہیں کبھی حاصل نہیں ہو سکے گی۔تو مسلم کا ختنہ مولوی محمد نذیر صاحب قریشی مبلغ سلسلہ نے ایک روایت لکھی ہے کہ ایک نو مسلم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پوچھا گیا کہ اُن کا ختنہ نہیں ہوا جو سنت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ سنت سے فرض یعنی ستر ڈھانپنا بہتر ہے۔اب دیکھو پر دہ کتنی اہم چیز ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی عمر کے ایک نو مسلم کے لئے ختنہ بھی ضروری نہ سمجھا کیونکہ اس