خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 678 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 678

خطابات شوری جلد دوم ۶۷۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء سنائے اور بتایا کہ اس کے پہلے انگریز خاوند سے دولڑ کے ہیں۔جن میں سے ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس ہے، وہ ہمیشہ با قاعدگی کے ساتھ حضرت خلیفہ اول کی معرفت اپنی والدہ کو روپے بھجوا دیتا تھا مگر چونکہ وہ لڑکا عیسائی تھا اُس کی والدہ ان روپوں کو لیتی نہیں تھی بلکہ پھینک دیا کرتی تھی۔حضرت خلیفہ اوّل فرماتے کہ ایک دفعہ میں نے اُسے بڑا سمجھایا کہ ان روپوں کے لے لینے میں کوئی حرج نہیں۔چنانچہ اس کے بعد روپے آئے تو اس نے رومال نکالا اور روپوں کو رومال میں رکھ کر گرہ باندھ لی اس کے بعد وہ اُٹھ کر ایک طرف کو چل پڑی۔حضرت خلیفہ اول نے بتایا کہ مجھے کچھ شبہ پیدا ہوا اور میں نے اُس کا خیال رکھا کہ وہ کدھر جاتی ہے۔تھوڑی دیر کے بعد ہی میں نے دیکھا کہ وہ ڈھاب کے قریب گئی اور رو مال اُس میں پھینک کر واپس آگئی۔اب دیکھو کہ اُس کے اندر ایمان تھا، اسلام کے متعلق غیرت تھی اور گوروپیہ نہ لینے میں اس قدر غلو درست نہیں تھا مگر بہر حال اپنے رنگ میں اُس نے کس قدر عظیم الشان غیرت کا مظاہرہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کی طرف سے آئے ہوئے روپے بھی قبول نہ کرتی بلکہ ساری عمر اس نے اپنے عیسائی بیٹے کی شکل تک نہیں دیکھی۔پس عورتیں بھی بہت بڑی قربانی کر سکتی ہیں مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کا نمونہ اُن کے سامنے ایسا پیش کیا جائے جس سے اُن کا دل مطمئن ہو جائے اور وہ سمجھ لیں کہ اسلام سے بڑھ کر ہمیں دنیا کا کوئی مذہب حقوق نہیں دے سکتا۔مجھے نہایت ہی افسوس کے ساتھ اس امر کا ذکر کرنا پڑتا ہے کہ بظاہر بعض اچھے بھلے لوگ ہوتے ہیں مگر اُن کو اپنی بیویوں سے ذرا بھی شکایت پیدا ہو تو اُن سے اس قسم کی بدسلوکی کرتے ہیں کہ عورت کے لئے کوئی چارہ کار باقی نہیں رہتا اور ساری عمر اُس کی برباد ہو جاتی ہے۔مرد اس قسم کی بدسلوکی کی یہ توجیہہ نکال لیتے ہیں کہ ہمیں خدا نے قَوَّامُون قرار دیا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے انتظامی امور میں مرد کو عورت پر فضیلت دی ہے مگر بدسلوکی کرتے وقت اُن کا شریعت کے اس اصل کو پیش کرنا محض ایک بہانہ ہوتا ہے اور ایسی ہی بات ہوتی ہے جیسے میں نے بچپن میں ایک لڑکے کو دیکھا کہ وہ بڑی حرص سے جلدی جلدی ریوڑیاں کھا رہا ہے گویا اُسے ڈر تھا کہ اوپر سے کوئی اور نہ آ جائے اور اُسے بھی ریوڑیاں نہ دینی پڑیں۔میں نے اُسے اس حرص کے ساتھ جلدی ریوڑیاں کھاتے دیکھا تو