خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 676 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 676

خطابات شوری جلد دوم للی محبت ۶۷۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء عورت کے دل کو اسلام سے بیزار کر کے خدا تعالیٰ کے غضب کو اپنے اوپر بھڑکاتے ہیں۔جس دن ہماری جماعت کے افراد میں یہ خوبی پیدا ہو جائے گی کہ وہ خدا تعالیٰ کے لئے اپنی بیویوں سے محبت کریں گے اور خدا کے لئے اپنی بیویوں سے نفرت کریں گے، اُن کے ذاتی میلانات یا ذاتی رجحانات یا ذاتی خواہشات کا اس میں کوئی دخل نہیں ہو گا بلکہ ان کی ناراضگی اور ان کی رضا مندی ، اُن کی محبت اور اُن کی نفرت سب کی سب خدا کے لئے ہوگی وہ دن ہو گا جب عورت سینہ سپر ہو کر مغربیت کا مقابلہ کر سکے گی۔یورپ کا فلسفہ اس پر اثر نہیں کرے گا اور وہ ہر مجلس میں یہ کہنے کے لئے تیار ہو گی کہ اسلام نے جو حقوق اُسے دیئے ہیں دنیا کا کوئی مذہب ویسے حقوق عورتوں کو نہیں دیتا۔دوسروں کی نقل آخر کسی مجبوری کی وجہ سے ہوتی ہے۔اگر مجبوری نہ ہو تو کون ہے جو یورپ کے فلسفہ کے آگے سر جُھکا سکے۔ہم نے تو دیکھا ہے کہ یورپ کی حد سے بڑھی ہوئی آزادی کی فضاء میں جن عورتوں نے پرورش پائی ہوئی ہوتی ہے وہ بھی جب دیکھتی ہیں کہ اُن کے تمام حقوق اُن کو مل گئے ہیں تو یورپ کی آزادانہ فضاء کو ایک لمحہ کے لئے برداشت نہیں کر سکتیں۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا کہ ایک ایک انگریز عورت کی قبول اسلام کے بعد تبدیلی ریاست میں سے کوئی مسلمان لوہار ولایت گیا۔تو وہاں سے وہ ایک انگریز عورت کو بیاہ لایا۔وہ ہندوستان آکر اُسی طرح پردہ کرتی تھی جس طرح مسلمان عورتیں پردہ کرتی ہیں بلکہ گھر کے کام میں بھی وہ پورا حصہ لیتی۔چکی اپنے ہاتھوں سے پیستی اور صبح شام خاوند کو روٹی پکا کر دیتی۔کچھ عرصہ کے بعد لوگوں میں یہ بات مشہور ہوئی تو کسی شخص نے ریذیڈنٹ کو ایک چٹھی لکھ دی کہ اس اس طرح ریاست میں فلاں لوہار نے ایک انگریز عورت کو قید کر رکھا ہے۔ریذیڈنٹ نے نواب صاحب کو لکھا کہ فوراً تحقیقات کی جائے اور عورت کو اس سے چھڑا یا جائے۔ریاستوں کے نواب بظاہر تو نواب کہلاتے ہیں مگر ریذیڈنٹ کے مقابلہ میں خادموں کی طرح ہوتے ہیں۔اُس کے پاس چٹھی پہنچی تو کانپنے لگ گیا کہ اب نہ معلوم میرے ساتھ کیا سلوک ہو۔چنانچہ اُس نے لوہار کو بلایا اور اُسے خوب ڈانٹا کہ تم نے یہ کیا حرکت کی ہے اور اُسے کہا کہ وہ فوراً عورت کو رخصت کر دے ورنہ اس کے ساتھ بہت بُرا سلوک کیا جائے گا۔لوہار نے کہا کہ