خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 677
خطابات شوری جلد دوم ۶۷۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء صاحب! مجھے کوئی اعتراض نہیں میں بھیجنے کے لئے تیار ہوں آپ اُس سے بھی تو دریافت فرما لیں کہ آیا وہ واپس جانے کے لئے تیار ہے یا نہیں؟ اس سے پوچھا گیا تو وہ کہنے لگی یہ لوگ ہیں کون جو میرے ذاتی معاملات میں دخل دیتے ہیں۔میں نے جو کچھ کیا اپنی مرضی سے کیا ان کا کیا اختیار ہے کہ مجھے زبر دستی واپس بھجوانے کی کوشش کریں۔اُس سے کہا گیا کہ دیکھو یہ شخص تم سے چکی پھواتا ہے، صبح شام کھانا تیار کراتا ہے اور گھر کا تمام کام لیتا ہے، یہ سلوک نہایت ہی نا مناسب ہے، پس ایسے شخص کے پاس ایک منٹ بھی نہیں رہنا چاہئے۔اس نے کہا چکی میں اپنی مرضی سے پیستی ہوں، پردہ اپنی مرضی سے کرتی ہوں، کھانا اپنی مرضی سے پکاتی ہوں اس پر کسی اور کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہے۔میں نے تو جب اس خاوند کو اپنے لئے پسند کیا تھا اُسی وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ جو رواج اس کے ملک کا ہوگا وہی میں قبول کروں گی چنانچہ اب میں خوشی سے اِس رواج کو قبول کر چکی ہوں کسی شخص کا کوئی حق نہیں کہ وہ اس بارہ میں دخل دے اور مجھے اپنے خاوند سے الگ کرنے کی کوشش کرے۔آخر نواب صاحب نے مجبور ہو کر ریذیڈنٹ کو لکھا کہ وہ عورت قید نہیں بلکہ آرام سے گھر میں رہتی ہے۔ہم نے خود اُسے بُلا کر تمام حالات دریافت کئے ہیں اور ہمیں معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنی خوشی اور رضا مندی سے اس کے گھر میں رہتی ہے، زبر دستی اُسے نہیں رکھا گیا اور اب وہ اس گھر کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہے۔اگر کہا جائے تو زبر دستی اس کو بھجوا دیا جائے۔گورنمنٹ نے جواب دیا کہ ہمارا یہ منشاء نہ تھا۔اگر وہ خوشی سے رہتی ہے تو اس کا اختیار ہے۔تو ایسی مثالیں یورپین عورتوں کی بھی ملتی ہیں کہ جب انہیں تمام حقوق دے دیئے گئے تو انہوں نے یورپ کی آزادانہ زندگی پر خانگی زندگی کو ہزار درجہ زیادہ ترجیح دی اور باوجود لوگوں کے بہکانے اور اُکسانے کے وہ اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوئیں۔ایک مسلمان عورت کی غیرت ایمانی اسی طرح غدر کے دنوں میں ایک مسلمان عورت سے ایک انگریز نے نکاح کر لیا مگر اُس نے اسلامی دستور کو ترک نہ کیا بلکہ ساری عمر اسلام پر پوری مضبوطی کے ساتھ قائم رہی اور اس نے اپنے ایمان کا مظاہرہ بھی نہایت شاندار طریق پر کیا۔اس عورت کی وفات قادیان میں ہی ہوئی تھی۔حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ ہمیں اس عورت کے حالات