خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 675
خطابات شوری جلد دوم ۶۷۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء مدنظر رکھیں کہ وہ کوئی ایسی تعلیم حاصل نہ کریں جو اُن کو اپنے فرائض سے غافل کرنے والی ہو وہاں مردوں کا بھی فرض ہے کہ وہ ایسے اعمال سے اجتناب کریں جن سے ایک عورت مجبور ہو کر اسلام کے متعلق بدظنی سے کام لینے لگ جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔اب یہ کس طرح جائز ہو سکتا ہے کہ جس کے قدموں کے نیچے جنت ہوا سے ایسے حالات میں رکھا جائے جو اس کے لئے دوزخ کی مانند ہوں۔در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یہ فلسفہ بتایا ہے کہ تمہاری تمدنی زندگی اُس وقت تک درست نہیں ہو سکتی جب تک عورت تمہارے لئے جنت پیدا نہ کرے اور تم عورت کے لئے جنت پیدا نہ کرو۔آخر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تمہاری عورت تو تمہارے لئے جنت پیدا کرے اور تم اُس کے لئے دوزخ تیار کرو۔جو عورت تمہارے لئے جنت پیدا کرتی ہے اُس کے متعلق تم پر یہ ایک اہم ترین فرض عائد ہوتا ہے کہ تم اُس کے لئے بھی جنت پیدا کرو۔اُس سے سلوک ایسا کرو جو محبت اور پیار والا ہو، اُس کے حقوق کو پوری طرح ادا کرو اور اُس پر بے جا سختی اور تشدد سے کام نہ لو۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو عورتوں کے حقوق کو صحیح طور پر ادا نہیں کرتے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ۹۵ فی صد لوگ ہماری جماعت میں ایسے ہیں جو عورتوں سے حُسنِ سلوک کرتے ہیں مگر وہ خدا اور اس کے رسول کے احکام کی وجہ سے حُسنِ سلوک نہیں کرتے بلکہ اپنی ذاتی محبت اور پیار کی وجہ سے حسن سلوک کرتے ہیں۔ورنہ جن کو ذاتی طور پر اپنی بیویوں سے کم محبت ہوتی ہے وہ خدا اور اس کے رسول کی تعلیم کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے اور اس کو چاک کر کے رکھ دیتے ہیں اور پھر اس کے بعد وہ بدسلوکی کرنے کے لئے ہر قسم کے بہانے نکال لیتے ہیں اور اپنی حکومت جتانے کے لئے پورا زور صرف کر دیتے ہیں۔گویا دوسرے الفاظ میں وہ اپنی حکومت جمانے کے لئے عورتوں کو اسلام کی تعلیم سے بیزار کر دیتے ہیں اور اس امر کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے کہ ان کی بدسلوکی کا عورت کے قلب پر کیا اثر ہوگا۔اور کیا وہ اس نتیجہ پر نہیں پہنچیں گی کہ جو مذہب مجھے ابتدائی انسانی حقوق بھی دینے کے لئے تیار نہیں وہ ہر گز اس قابل نہیں ہوسکتا کہ اسے کوئی انسان اختیار کرے۔گویا وہ اپنے بد اعمال کی وجہ سے صرف اپنے آپ کو ہی گنہگار نہیں بناتے بلکہ ایک