خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 668
خطابات شوری جلد دوم ۶۶۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء تیار کر سکے جو میرے ذہن میں ہے، ورنہ میرا جی چاہتا ہے کہ جس طرح مصری برقع ہوتا ہے اسی طرز کا برقع تیار کیا جائے۔سر کی ٹوپی علیحدہ ہو اور اس میں زنجیر کے ساتھ اس قسم کے ٹک لگے ہوئے ہوں کہ جب مرد سامنے آئے فوراً اس کو دبا کر پردہ کیا جا سکے۔اس کے نتیجہ میں وہ شکایت بھی پیدا نہیں ہو گی جو اب بعض دفعہ سُننے میں آجاتی ہے کہ بعض عورتیں سڑک پر ایسی حالت میں نظر آ جاتی ہیں کہ اُن کا منہ کھلا ہوتا ہے اور وہ اُس وقت نقاب ڈالتی ہیں جب مرد پر اُن کی نظر پڑتی ہے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ شکایت درست نہیں ہے۔اسلام اس بات کی ہدایت نہیں دیتا کہ عورتیں ہمیشہ منہ پر نقاب رکھیں خواہ کوئی مرد سامنے ہو یا نہ ہو۔ابو داؤد میں صاف طور پر ذکر آتا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرَمَاتٌ فَإِذَا جَاوَزُوْا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَا بَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلَى وَجُهِهَا فَإِذَا جَاوَزُوْنَا كَشَفْنَا یعنی جب ہم حج کے لئے جائیں تو ہودج میں بیٹھے ہوئے ہم اپنی نقابیں اُٹھا لیتی تھیں۔جب سامنے سے مردوں کو آتا دیکھتیں تو پردہ کرلیتیں اور جب وہ گزر جاتے تو پھر نقاب الٹ دیتیں۔در حقیقت ایسے مقامات پر جہاں مردوں کے آنے جانے کا بہت کم امکان ہوتا ہے عورت نقاب اٹھا سکتی ہے اور یہ ہرگز شریعت کے خلاف نہیں ہے۔ایسی حالت میں اگر اتفاقاً کوئی مرد سامنے آ جاتا ہے اور اس کی نظر پڑ جاتی ہے اور عورت اسے دیکھتے ہی فوراً پردہ کر لیتی ہے تو یہ چیز ایسی نہیں جسے بطور اعتراض پیش کیا جاسکے کیونکہ یہ ایک اتفاقی بات ہوتی ہے۔وہی چیز قابلِ اعتراض سمجھی جاسکتی ہے جو عمداً اور ارادتاً شریعت کے خلاف کی جائے اور جس میں شریعت کے استخفاف کا پہلو پایا جائے۔بہر حال میرے نزدیک موجودہ برقع ضرور قابل اصلاح ہے۔میں نے عورتوں سے اس بارہ میں دریافت کیا ہے وہ کہتی ہیں کہ اس برقع میں اگر ہم پوری دیانتداری کے ساتھ پردہ کرنا چاہیں تو بھی نہیں کر سکتیں۔جس کی وجہ یہ ہے کہ آنکھیں جالی کے اندر سے دیکھنے کے نتیجہ میں تھک جاتی ہیں اور نقاب اگر زیادہ دیر تک رہے تو دم گھٹنے لگتا ہے۔ایسی صورت میں اگر کوئی عورت پردہ میں پوری احتیاط نہیں کر سکتی تو لوگوں کے لئے ایک اعتراض کا موقع پیدا ہو جاتا ہے۔لیکن پھر بھی قادیان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے پردہ کی خاص طور پر پابندی کی