خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 669 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 669

خطابات شوری جلد دوم ۶۶۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء جاتی ہے۔ورنہ دوسرے شہروں میں تو یہ حالت ہوتی ہے کہ میلوں میں چلے جائیں تو کوئی برقع نظر نہیں آتا۔اس کے یہ معنے نہیں کہ وہاں عورتیں نظر نہیں آتیں بلکہ یہ معنے ہیں کہ عورتیں تو نظر آتی ہیں مگر برقع کے بغیر ہوتی ہیں۔یہاں چونکہ بار بار پردے پر زور دیا جاتا ہے اس لئے لوگوں کو اگر ذراسی بھی خامی یا نقص نظر آئے تو وہ اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان میں پردہ کی خاص طور پر پابندی کی جاتی ہے اور اگر کوئی نقص ہے تو وہ بہت معمولی ہے۔بہر حال جہاں ایسی عورتوں کی اصلاح ضروری ہے جو پردہ میں احتیاط سے کام نہیں لیتیں وہاں ہمارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ایسا برقع ایجاد کریں جس سے عورتوں کو پردہ کرنے میں سہولت ہو اور ان کی موجودہ تکالیف سب کی سب دُور ہو جائیں۔ایک دوست نے کہا ہے کہ شہری اور دیہاتی پردہ میں جو فرق ہے اس پر روشنی ڈالی جائے۔یہ سوال معقول ہے مگر اس وقت اس سوال پر روشنی ڈالنے کا موقع نہیں کیونکہ بات لمبی ہو جائے گی اور وقت کم ہے۔اس وقت میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ دیہاتی عورتوں سے جس حد تک پردہ کرانے کی کوشش کی جا سکے اُس حد تک اُن سے پردہ کرانے کی کوشش ہمیشہ جاری رکھنی چاہئے۔میں اپنی سابق تقریروں اور قرآن کریم کے درسوں وغیرہ میں اُس کی پوری وضاحت کر چکا ہوں۔دوستوں کو چاہیے کہ وہ میری ان تقاریر کا مطالعہ کریں۔في الحال سوال صرف اُن عورتوں کے متعلق ہے جن کو مزدوری یا کام وغیرہ کے لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ آسانی سے پردہ کی شرائط کی پابندی کر سکتی ہیں مگر اس کے باوجود اُن کی طرف سے پردہ کی شرائط پر عمل کرنے میں بعض کوتاہیوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔پس عورتوں کے متعلق یہ سوال ہے کہ اُن کی اصلاح کا کیا طریق اختیار کیا جائے؟ جو دوست اس بات کی تائید میں ہوں کہ ایک ہی وقت میں ایک طرف پردہ کی اہمیت اور اُس کی ضرورت کا مختلف مضامین وغیرہ کے ذریعہ جماعت پر اظہار کیا جائے۔۔۔۔۔اور دوسری طرف جن کے متعلق پردہ کی خلاف ورزی کی شکایت موصول ہو، انہیں 66 تنبیہ کی جائے جس کی آخری حد اخراج از جماعت تک ہو وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۳۱۹ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا:-