خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 667 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 667

خطابات شوری جلد دوم ۶۶۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء نے تائید کی ہے وہ بھی پردے کو صحیح طور پر قائم نہیں رکھ سکتا بلکہ موجودہ طرز کے برقعوں سے بھی اُس میں زیادہ بے پردگی کا امکان پایا جاتا ہے۔موجود طرز کے برقعوں میں جو عورتیں محتاط نہ ہوں صرف اُن کے منہ کا کچھ حصہ ننگا رہتا ہے۔مگر پرانے برقعے ایسے ہیں کہ اگر نقاب اُٹھا دی جائے تو گلے سے لے کر دھڑ تک عورت کا سارا جسم ننگا ہو جاتا ہے اس لئے میرے نزدیک دونوں برقعوں میں نقائص ہیں، نہ پرانا برقع پر دے کو صحیح طور پر قائم رکھ سکتا ہے اور نہ نئی طرز کے برقعے پر دے کو صحیح طور پر قائم رکھ سکتے ہیں۔انہوں نے شکایت کی ہے کہ برقع میں عورت کی آنکھیں بند رہتی ہیں جن کا اُن کی صحت پر بُرا اثر پڑتا ہے۔مگر جہاں تک میں نے حدیثوں اور تاریخ کا مطالعہ کیا ہے مجھے یہی معلوم ہوا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں پردہ کے لئے جو کپڑا اپنے اوپر لے لیتی تھیں اُس میں آنکھیں نہیں ہوتی تھیں۔پھر سوال صرف آنکھوں کا نہیں۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں اگر آنکھیں لگا دی جائیں اور عورت جالی میں سے دیکھے تو پھر بھی اس کی آنکھیں تھک جاتی ہیں اور جالی میں سے دیکھنا اُسے بوجھ سا محسوس ہوتا ہے۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے صحیح اسلامی پر دہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا۔اُس زمانہ میں عورتیں اپنے جسم پر ایک چادر لپیٹ لیتی تھیں اور اس طرح پر دے کا مقصد پورا ہو جاتا تھا۔مگر اوّل تو چادر کا ہر وقت لپیٹنا مشکل ہوتا ہے دوسرے بے احتیاط عورت اگر ہاتھ ڈھیلا چھوڑ دے تو وہ اس میں موجود برقع سے بھی کم اپنے پردہ کو قائم رکھ سکتی ہے۔اصل چیز جس کو پردہ میں مدنظر رکھنا چاہئے وہ گھونگھٹ ہے۔یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے نہ نظر پر بوجھ پڑتا ہے نہ رستہ دیکھنے میں کوئی دقت پیش آتی ہے، نہ سانس گھٹتا ہے اور نہ بے پردگی کا کوئی امکان رہتا ہے سوائے اس کے کہ کوئی بدمعاش ہو اور وہ ہاتھ سے کسی کا گھونگھٹ اُتار دے، مگر ایسے شخص کو ہر شخص جوتیاں مارنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔بہر حال جہاں تک میں سمجھتا ہوں چادر کا استعمال سب سے زیادہ موزوں طریق تھا جو اسلام میں اختیار کیا گیا مگر اس زمانہ میں موٹریں اور گاڑیاں اس کثرت سے چلتی ہیں کہ چادر سنبھالی نہیں جاسکتی ، اس لئے وہ طریق ہم اس زمانہ میں اختیار نہیں کر سکتے۔مجھے افسوس ہے کہ اب تک مجھے کوئی ایسا درزی نہیں ملا جو اُس نقشہ کے مطابق برقع