خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 656 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 656

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔وہاں آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ " میری اُمت کا اختلاف رحمت ہے۔آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ امیر قائم ہو جانیکی وجہ سے تم دنیا سے تمام اختلافات کو مٹا دو بلکہ یہ فرمایا ہے کہ امراء کے با وجود اختلافات کا رہنا امت محمدیہ کے لئے رحمت ہے۔اگر یہ اختلافات گلیہ مٹ جائیں تو یہ امر رحمت کی بجائے مصیبت اور دکھ کا موجب بن جائے۔پس آپ نے فرمایا کہ اس امر کو اچھی طرح سمجھ لو کہ اختلاف کا مٹ جانا رحمت نہیں بلکہ اختلاف کا قائم رہنا رحمت ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ تفرقہ اور شقاق اور لڑائی اور جھگڑا رحمت ہے۔اگر یہ مفہوم ہوتا تو آپ فرماتے۔الاخْتِلَافُ رَحْمَةٌ۔اختلاف رحمت ہے۔مگر آپ نے یہ نہیں فرمایا بلکہ فرمایا ہے اِخْتِلَافُ أُمَّتِی رَحْمَةٌ یعنی اس نظام کے ماتحت جو اسلام نے قائم کیا ہے میری اُمت کے لئے اختلاف رحمت کا موجب ہے۔گویا ایک ہی وقت میں اختلاف اور اُسی وقت میں اطاعت یہ چیز ہے جو جماعتوں کی ترقی اور ان کی کامیابی کا ذریعہ ہوتی ہے۔پس میرے نزدیک یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم اس قاعدہ کو ایسے رنگ میں بدلیں کہ جس میں یہ دونوں پہلو مد نظر رہیں۔میرے نزدیک یہی وہ طریق ہے جس پر عمل کرنا ہمارے لئے زیادہ مفید رہے گا۔میں نے اپنی اس رائے کا مشورہ سے پہلے ہی اظہار کر دیا ہے۔بعض دوست ایسے موقع پر اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ خلیفہ وقت جب پہلے اپنی کسی رائے کا اظہار کر دے تو پھر شوری کا مشورہ مشورہ نہیں رہتا کیونکہ لوگ مجبور ہوتے ہیں کہ خلیفہ وقت کی رائے کے مطابق رائے دیں، خواہ اُن کو اُس سے کیسا ہی اختلاف کیوں نہ ہو۔مگر میں سمجھتا ہوں جماعت کی تربیت کے لئے ایسا ہونا ضروری ہے۔میرے نزدیک جماعت کو اپنے اندر ایسا رنگ پیدا کرنا چاہئے کہ باوجود اس اقرار کے کہ وہ خلیفہ وقت کی کامل اطاعت کرے گی جب اُس سے مشورہ لیا جائے تو خواہ مشورہ لینے والا نبی ہی کیوں نہ ہو جماعت کا فرض ہے کہ وہ اپنی دیانتدارانہ رائے کا اظہار کر دے اور ہرگز کسی اور رائے سے متاثر نہ ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی ثابت ہے کہ آپ نے بعض مقامات پر پہلے اپنی رائے کا اظہار فرمایا اور پھر لوگوں سے مشورہ لیا۔اس لئے کہ