خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 657 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 657

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ یقین رکھتے تھے کہ جہاں تک رائے کا سوال ہے صحابہ رائے دیتے وقت ہر قسم کے اثرات سے آزا در ہیں گے اور یہ دیانتدارانہ رنگ میں اپنا مشورہ پیش کریں گے۔اسی طرح میں بعض دفعہ اپنی رائے کا پہلے ہی اظہار کر دیا کرتا ہوں تا مشورہ دینے سے پہلے اُس کے مختلف پہلو جماعت کے سامنے آجائیں مگر اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ جب دوستوں سے رائے لی جائے تو اُن کا فرض ہے کہ وہ وہی رائے دیں جس پر اُن کے دل کو اطمینان حاصل ہو۔محض اس لئے کہ ایک نبی نے یا خلیفہ وقت نے اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے، بلا وجہ اپنی رائے کو بدل لینا درست نہیں۔ہاں اگر دلائل سن کر کسی شخص کی رائے واقعہ میں بدل گئی ہو تو اُسے کوئی شخص مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ اپنی پہلی رائے ہی پیش کرے کیونکہ دلائل نے اُسے پہلی رائے پر قائم نہیں رہنے دیا۔بہر حال اگر کوئی شخص دیانتداری سے اپنی رائے بدل لیتا ہے تو اُس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اُس نے اپنی رائے کو کیوں بدلا لیکن اگر کوئی شخص اپنی رائے کو نہیں بدلتا تو اُس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ سچائی کے ساتھ اپنی رائے پیش کر دے خواہ خلیفہ وقت اُس رائے کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کیوں نہ کر چکا ہو۔یہ سوال چونکہ اصولی تھا اس لئے میں نے اپنے خیالات کا اظہار کر دیا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ لوگ بھی ضرور یہی رائے دیں۔آپ سے جب رائے پوچھی جائے تو آپ وہی دیں جس پر آپ قائم ہوں۔ہاں اگر کسی نے اپنی رائے کو بدل لیا ہو تو وہ حق رکھتا ہے کہ تبدیل شدہ رائے کو پیش کرے اور اپنی پہلی رائے کو چھوڑ دے۔اس تقریر کے بعد سب سے پہلے میں ترمیم کو لیتا ہوں۔جو دوست اس ترمیم کے حق میں ہوں کہ عہدیداروں کی نامزدگی امیر کیا کرے۔انجمن کا اب تک جو قاعدہ ہے اس کے مطابق انتخاب نہ ہو اور نہ ہی مجلس منتخبہ انتخاب کرے،صرف ایک امیر مقرر کر دیا جائے اور اُس کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ جس جس کو چاہے عہد یدار نامزد کر لیا کرے۔جو دوست اس کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ صرف سات دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا:- جو دوست اس بات کے حق میں ہوں کہ صدر انجمن احمد یہ کے قاعدہ میں ترمیم کی جائے اور ایک مجلس منتخبہ کو عہدیداران کے انتخاب کا حق دیا جائے، وہ کھڑے ہو جائیں“