خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 648 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 648

خطابات شوری جلد دوم ۶۴۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء شوری صرف مشورہ دیتی ہے اور مشورہ بھی اُس وقت دیتی ہے جب خلیفہ وقت اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اُس سے مشورہ مانگتا ہے۔پس دوست اگر مشورہ دیتے ہیں تو محض اللہ تعالیٰ کے ایک حکم کی تعمیل میں ، سلسلہ کی ضروریات کو سب سے مقدم سمجھتے ہوئے ، نہ اس لئے کہ اُن کا وجود کوئی مستقل حیثیت رکھتا ہے اس لئے یہ کہنا کہ ہم کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ بالکل غلط ہے۔مجلس کوئی فیصلہ نہیں کرتی اُن معنوں میں جن معنوں میں مجالس قانون ساز فیصلہ کیا کرتی ہیں۔اور اگر ہم" کے معنے مجلس شوریٰ کے نظام کے ہوں اور یہ نظام بصدارت خلیفہ وقت ہوتا ہے کیونکہ وہی لوگوں سے مشورہ مانگنے والا ہوتا ہے تو پھر اس کے معنے یہ بنیں گے کہ کیا خلیفہ وقت صدر انجمن احمدیہ کے کسی قاعدہ کو رڈ کر سکتا ہے یا نہیں ؟ اور یہ سوال بھی بالکل غلط ہے۔خلیفہ وقت بہر حال بالا حیثیت رکھتا ہے اور وہ صدر انجمن کے قوانین میں ترمیم و تنسیخ کا کامل مجاز ہے۔پس یہ سوال کسی کے دل میں خلش کا موجب نہیں ہونا چاہئے۔پھر یوں بھی دیکھ لیا جائے کہ گو قواعد وضوابط میں یہ درج ہو یا نہ ہومگر ہمارا عملی نظام یہی ہے کہ مجلس شوریٰ میں کسی معاملہ کو پیش کرنے کی دوصورتیں ہوتی ہیں۔اول باہر کی جماعتوں میں سے اگر کوئی دوست کسی تجویز کا پیش کرنا ضروری سمجھیں تو وہ تجویز محکمہ متعلقہ میں آجاتی ہے۔اور پھر اُس محکمہ کے ناظر باقی ناظروں کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد کہہ دیتا ہے کہ ہم اس تجویز کے پیش کرنے کے حق میں ہیں۔اس صورت میں صدر انجمن احمد یہ باہر سے آئی ہوئی تجویز کو اپنا لیتی ہے۔اور وہ اُسے اپنی تائید کے ساتھ شوری میں پیش کر دیتی ہے۔اگر زیر بحث تجویز اس طور پر پیش ہوتی ہے کہ صدر انجمن احمدیہ نے اس کو اپنا لیا ہے تو پھر بھی یہ سوال نہیں اُٹھایا جا سکتا کہ شوری صدر انجمن کے قاعدہ میں کسی ترمیم کا حق رکھتی ہے یا نہیں کیونکہ یہ وہ معاملہ ہے جسے صدر انجمن احمد یہ خود پیش کر رہی ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اپنے قاعدہ میں خود بھی کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ صدر انجمن احمد یہ اُس تجویز کو اپناتی نہیں۔صدر انجمن احمدیہ چونکہ ایگزیکٹو باڈی ہے اور فیصلوں کا نفاذ کرنے والی انجمنیں بعض ذمہ داری کا بوجھ اُٹھانے