خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 649 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 649

۶۴۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء خطابات شوری جلد دوم سے گھبراتی اور کتراتی ہیں اس لئے دوسرا قاعدہ ایسی تجاویز کے متعلق یہ ہے کہ وہ خلیفہ وقت کے پاس جاتی ہیں اور باوجود صدر انجمن احمدیہ کے رڈ کر دینے کے خلیفہ وقت اگر اُن تجاویز کا پیش ہونا ضروری سمجھتا ہے تو وہ حکم دیتا ہے کہ ان تجاویز کو مجلس شوری میں پیش کیا جائے کیونکہ اُس کے نزدیک وہ تجاویز ضروری ہیں اور گو صدر انجمن احمد یہ اُن تجاویز کو نہ اپنائے مگر خلیفہ وقت اپنے اختیارات سے حکم دے کر اُن کو جماعت کے نمائندگان کے سامنے لاتا ہے۔اِس صورت میں بھی جو سوال اُٹھایا گیا ہے وہ بالکل غلط ہے کیونکہ خلیفہ وقت تو اُس تجویز کا پیش ہونا ضروری سمجھتا ہے مگر اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ کیا اس طریق سے صدر انجمن احمدیہ کے اختیارات میں دست اندازی تو نہیں ہو گی بہر حال ہمارے نظام کے مطابق مجلس شوری میں اُس وقت تک کوئی تجویز نہیں ہو سکتی جب تک صدر انجمن احمد یہ اُس کو اپنانہ لے یا خلیفہ وقت اُس کو پیش کرنے کا حکم نہ دے۔بلکہ میری رائے تو یہ ہے کہ چونکہ اہم امور کا نفاذ کرنے والی انجمنیں بعض دفعہ اپنی ذمہ داریوں کی زیادتی کے خوف سے سُست اور غافل ہو جاتی ہیں اس لئے ہو سکتا ہے کہ وہ بعض ایسی تجاویز کو ر ڈ کر دیں جو اُس پر ذمہ داری کا بوجھ ڈالنے والی ہوں اور ہو سکتا ہے کہ خلیفہ وقت کے سامنے بعض دفعہ ایسی تجاویز پیش نہ ہوں اس لئے آئندہ کے لئے صدر انجمن احمدیہ کو یہ نوٹ کر لینا چاہئے کہ وہ تجاویز جو مجلس شوریٰ میں پیش ہونے کے لئے باہر سے دوستوں کی طرف سے آئیں اُن سب سے انجمن جن تجاویز کو رڈ کر دے وہ تمام تجاویز ہمیشہ مجلس شوری کے اجلاس میں نظارت علیا کی طرف سے سُنائی جانی چاہئیں اور یہ بھی بتانا چاہئے کہ کن وجوہ کی بناء پر اُن کو منظور نہیں کیا گیا۔اس کا بھی مخفی طور پر فطرت پر ایک دباؤ پڑے گا اور لوگوں کو بھی معلوم ہوتا رہے گا کہ اُن کی تجاویز پر پورا غور کیا جاتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ بلا وجہ اُن کو نظر انداز کر دیا جائے۔دوسرا سوال انہوں نے یہ اُٹھایا ہے کہ اگر اس تجویز کو منظور کر لیا جائے کہ معہد یداروں کا انتخاب ہمیشہ ایک مجلس انتخاب کے ذریعہ ہوا کرے تو لوگوں سے اُن کے ووٹ دینے کا حق چھینا جائے گا جو ایک نا مناسب امر ہے۔میرے نزدیک یہ سوال بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے لیکن اگر میری اُن ہدایات پر جماعت ہمیشہ عمل کرتی ہے جو وقتاً فوقتاً میں دیتا رہتا ہوں تو