خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 644
خطابات شوری جلد دوم ۶۴۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء کا کہاں تک سلسلہ کے حالات کے مناسب ہے مگر مستقل تنخواہیں بڑھانے کی میں اجازت نہیں دے سکتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گورنمنٹ نے تنخواہوں میں اضافہ کر دیا ہے مثلاً مدارس ہیں۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ گورنمنٹ نے مدرسین کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیا ہے اور بعض دفعہ ہم جنہیں مدارس کے قوانین کا پورا علم نہیں ہوتا خیال کر لیتے ہیں کہ ہمیں بھی اپنے مدرسین کو ضرور اتنی ہی تنخواہیں دینی پڑیں گی جتنی گورنمنٹ نے مقرر کی ہیں۔مگر میں نے سنا ہے یہ درست نہیں۔یہ امر ہماری مرضی پر منحصر ہے کہ ہم اپنے مدرسین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں یا نہ کریں۔گورنمنٹ کا طریق عمل ہمیں مجبور نہیں کرتا کہ ہم ضرور مدرسین کی تنخواہیں اُسی قدر بڑھا دیں جس قدر گورنمنٹ نے بڑھائی ہیں۔پس نظارت بیت المال کے متعلق جو سب کمیٹی مقرر ہونے والی ہے اُس میں ایک دو ایسے آدمی ہونے چاہئیں جنہیں سکولوں کی گرانٹوں وغیرہ کے متعلق تجربہ ہو مثلاً انسپکٹر آف سکولز ہوں اور وہ ہمیں بتائیں کہ آیا ہم اس بات کے پابند ہیں کہ مدرسین کی تنخواہوں کو بڑھا ئیں یا یہ امر ہماری مرضی پر منحصر ہے کہ ہم چاہیں تو ان کی تنخواہیں بڑھا دیں اور چاہیں تو نہ بڑھائیں۔اگر ہم پابند ہیں کہ گورنمنٹ کے طریق کی پابندی کریں تب تو مجبوری ہے لیکن اگر ہم اس بات کے پابند نہیں تو اُن کو بھی قحط الاؤنس یا جنگ الاؤنس ہی ملنا چاہئے۔قاعدہ کے طور پر اُن کی تنخواہیں بڑھانے کی تجویز نہیں ہونی چاہئے۔تاکہ بعد میں یہ امر ہمارے لئے پریشانی کا موجب نہ ہو۔گورنمنٹ نے مدرسین کی تنخواہوں میں جو اضافہ کیا ہے وہ محض موجودہ جنگی ضرورتوں کے پیش نظر کیا ہے کیونکہ گورنمنٹ کا یہ خیال ہے کہ بہترین پرو پیگنڈا سکولوں کے طلباء کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔اُستاد اُن کے سامنے جو بات بھی زور کے ساتھ بیان کریں وہ طالب علموں کے ذریعہ تمام ملک میں پھیل جاتی ہے۔اخباروں میں بھی چرچا ہوتا رہا کہ سب سے زیادہ پروپیگنڈا کرنے والے اُستاد ہوتے ہیں۔اگر ان کو خوش رکھا جائے تو وہ طالب علموں میں اچھا پرو پیگنڈا کر سکتے ہیں اور اس طرح تمام ملک پر اثر پڑتا ہے۔چنانچہ گورنمنٹ نے اپنے پروپیگنڈے کا کام لینے کے لئے استادوں کی تنخواہیں بڑھانے کا فیصلہ کر دیا۔پچھلی جنگ میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔استادوں کی