خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 643
خطابات شوری جلد دوم ۶۴۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء چالیس سے ساٹھ روپیہ تختو او تک بارہ روپے ماہوار الاؤنس دیا جائے گا۔ساٹھ سے سو روپیہ تنخواه تک چودہ روپیہ ماہوار الاؤنس دیا جائے گا۔اس کے بعد ۱۱۳ روپیہ تنخواہ تک ہر ایک کو اتنا الاؤنس دیا جائے گا کہ اُس کی تنخواہ مع الاؤنس ایک سو چودہ روپے ہو جائے۔مثلاً ۱۰۱ والے کو ۱۳ روپے الاؤنس دیا جائے گا۔۱۰۲ والے کو ۱۲۔۱۰۳ والے کو ۱۱ ۱۰۴ والے کو ۱۰۔۱۰۵ والے کو ۹۔اور ۱۰۶ والے کو آٹھ۔یہ الاؤنس ہمارے مقرر کردہ الاؤنسوں سے زیادہ ہیں۔پس ممبران کمیٹی کو چاہئے کہ وہ ان کو بھی مد نظر رکھ لیں بلکہ میں ان کو یہاں تک اجازت دیتا ہوں کہ اگر وہ چاہیں تو اس امر پر بھی غور کر سکتے ہیں کہ کیوں نہ ہم اپنے کارکنوں کے الاؤنس گورنمنٹ کے مقرر کردہ الاؤنسوں سے بھی بڑھا دیں کیونکہ غلہ کی قیمت اس سال خاص طور پر بڑھ گئی ہے۔عام خیال یہ ہے کہ ابتداء میں سات روپیہ من سے کم غلہ نہیں ملے گا اور پھر جلدی ہی آٹھ کو روپیہ تک چلا جائے گا۔باقی جو ترقیات وغیرہ ہیں، ان کو سر دست رہنے دو۔اگر اس وقت ہم افسروں کی تنخواہیں بڑھا دیں یا کلرکوں کی تنخواہیں بڑھا دیں یا اور کارکنوں کی تنخواہیں بڑھا دیں تو نہ قرض اُتر سکتا ہے اور نہ ریز روفنڈ قائم ہوسکتا ہے۔ہم نے الاؤنس مقرر کر دیئے ہیں بلکہ اگر ضرورت ہو تو ان الاؤنسوں کو بڑھا بھی سکتے ہیں۔پس اس وقت کارکنوں کو جو تکلیف ہے اُسے جنگ الاؤنس یا قحط الاؤنس کے ذریعہ دور کرنے کی کوشش کرو۔یہ وقت نہیں کہ ہم کارکنوں کی تنخواہیں بڑھانے کا فیصلہ کریں۔ہمیں کیا معلوم کہ جنگ کے بعد کیا حالات رونما ہونے والے ہیں۔شاید وہی غلہ جو آٹھ روپے کو ملتا ہے دو روپے کو ملنے لگ جائے اور وہی کپڑے کا تھان جو آج ستر اسی روپے کو ملتا ہے دس گیارہ روپے کو مل جائے۔پس ایسے وقت میں جب غیر معمولی حالات رونما ہوں اور اس کی وجہ سے آمد میں زیادتی ہو اپنی آمد کو مستقل آمد سمجھ لینا اور اس آمد پر قیاس کرتے ہوئے اپنے اخراجات کو بڑھا لینا یا تنخواہوں میں اضافہ کر دینا غلط طریق ہے اور اس وقت میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ہاں جو کارکنوں کو تکلیف ہے اُسے جنگ الاؤنس کے ذریعہ دُور کرنے کی صدر انجمن احمد یہ کوشش کر سکتی ہے۔بلکہ اگر وہ اس امر پر غور کرنا چاہے کہ گورنمنٹ کے مقرر کردہ الاؤنسوں سے بھی زیادہ الاؤنس ہم اپنے کارکنوں کے مقرر کر دیں تو میری طرف سے اس میں بھی روک نہیں۔ہم دیکھیں گے کہ اس کی اس تجویز