خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 50

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء نہ جاننے کی وجہ سے اتنی ہی گری ہوئی تھیں جتنی اِن علوم کے جاننے والی عورتیں گری ہوئی ہیں؟ کیا وہ لڑکی جو اسلام کی تعلیم پر کوئی اعتراض کرے بوجہ اس کے کہ وہ چند الفاظ انگریزی کے پڑھی ہوئی ہے، اپنی ان دادیوں اور نانیوں سے زیادہ قابل عزت ہے جو انگریزی کے نام تک سے واقف نہ تھیں لیکن اسلام کی محبت میں سرشار تھیں۔ذرا غور تو کرو انہوں نے قوم اور مذہب کی بہتری کے لئے کیا کیا اور آجکل کی تعلیم یافتہ عورتیں کیا کر رہیں ہیں۔پھر سوال یہ ہے کہ وجہ کیا ہے کہ اردو کی تعلیم پانے والے کو تو جاہل سمجھا جائے اور انگریزی کی تعلیم حاصل کرنے والے کو عالم قرار دیا جائے۔یہ خیال اُس وقت پیدا ہوا جب اردو کو بے علمی کا موجب سمجھ لیا گیا لیکن اگر اپنی زبان کی تعلیم حاصل کرنا جہالت ہے تو انگریزی پڑھنے والا انگریز کیونکر عالم کہلا سکتا ہے۔پھر یہ بھی غلط ہے کہ جو باتیں انگریزی میں پڑھائی جاتی ہیں ان سب کو مغرب بھی علم سمجھتا ہے۔امریکہ میں ایک استاد کو اس لئے سزا دی گئی کہ تم نے طلباء کو ڈارون تھیوری کیوں پڑھائی۔تو ایسی باتیں ہیں جن کو آج یہاں علم قرار دیا جاتا ہے لیکن یورپین ممالک میں ان کو جہالت سمجھا جاتا ہے۔دراصل یہ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ جو کچھ یو نیورسٹی میں پڑھایا جائے اُسے تو علم سمجھا جاتا ہے اور جو نہ پڑھایا جائے اُسے جہالت قرار دیا جاتا ہے۔دراصل علم اور جہالت کا سوال اتنا باریک ہے کہ وہ لمبی بحث چاہتا ہے اور اس کے لئے یہ موقع نہیں۔بہر حال مغربی تعلیم کو علم کہنا اور اپنی تعلیم کو جہالت کہنا یا یہ کہنا کہ اس تعلیم کی وجہ سے خواہ کتنے نقائص پیدا ہوں وہ دلانا ضروری ہے، نہایت لغو بات ہے۔اور جب تک کوئی شخص غیرت اور حمیت اور دین سے بیگانہ نہ ہو جائے یہ نہیں کہہ سکتا۔پس اگر یہ کہا جاتا کہ ان نقائص کی وجہ سے ہم نے اپنی لڑکیوں کو تعلیم دلانا بند کر دیا ہے تو مجھے ان سے بڑی ہمدردی پیدا ہوتی مگر اب یہ کہا گیا ہے کہ احمدی لڑکیوں میں بھی ، باتیں پائی جاتی ہیں اس لئے مجبوری ہے اور اس مجبوری کی وجہ سے قادیان میں تعلیم کا انتظام ہونا چاہئے ، مگر یہ مجبوری کیسی۔یہ تو وہی بات ہوئی جو حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ ایک مولوی نے نکاح پر نکاح پڑھا دیا۔میں نے اُسے کہا یہ تم نے کیا کیا ؟ تو وہ کہنے لگا سخت مجبوری کی حالت میں ایسا کیا گیا ہے۔حضرت مولوی صاحب فرماتے میں