خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 49
خطابات شوری جلد دوم ۴۹ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء انسان اس کو پوری طرح محسوس نہیں کر سکتے۔تاہم اگر کسی سے یہ کہا جائے کہ فلاں جگہ تعلیم دلانے سے لڑکی فیشن پرست بن جائے گی ، اسے برتھ کنٹرول کی تعلیم دی جائے گی ، بے پردگی سیکھے گی تعلیم اسلام کے خلاف باتیں اسے سکھائی جائیں گی لیکن اگر وہاں داخل نہ کرو گے تو تعلیم حاصل نہ ہوگی۔تو غور کرو اس سوال کا کوئی شریف اور غیرتمند احمدی کیا جواب دے گا ؟ کیا یہ کہ بے شک یہ ساری باتیں لڑکی سیکھے مگر اسے ضرور تعلیم دلانی چاہئے؟ یا ان باتوں کو ننگا کر کے اُس کے سامنے رکھا جائے تو یہ کہے گا کہ ضروری نہیں کہ ایسی تعلیم دلائی جائے بلکہ اس کے دماغ کو روشن کرنے والی ، اس میں اسلامی روح پیدا کرنے والی، اسے اسلامی تعلیم سے واقف کرنے والی تعلیم گھر میں دلانی چاہئے۔ان نقائص کے مقابلہ میں جو آجکل کی سکول کی تعلیم میں پائے جاتے ہیں، اسے سکول میں نہیں پڑھانا چاہئے۔اگر یہی جواب ہر شریف انسان اس نقطہ نگاہ کو پیش نظر رکھ کر دے گا جو ہمارا ہے، تو تعلیم کا سوال ایسا اہم نہیں رہ جاتا جیسا کہ اسے سمجھا جاتا ہے۔اگر دوست یہ صورت اختیار کرتے کہ چونکہ سرکاری سکولوں کی تعلیم میں یہ یہ نقائص پائے جاتے ہیں اس لئے ہم اپنی لڑکیوں کو ان میں تعلیم نہیں دلا رہے اس کے لئے قادیان میں تعلیم کا انتظام ہونا چاہئے ، تو ایک معقول بات تھی مگر انہوں نے سوال کو ایسے رنگ میں پیش کیا ہے کہ اسے میرے لئے اپنے دماغ میں لانا ہی مشکل ہو گیا اور وہ یہ کہ چونکہ ہماری بچیاں بیرونی سکولوں میں یہ یہ باتیں جو اسلام کے خلاف ہیں، سیکھ رہی ہیں اس لئے ان کی تعلیم کا قادیان میں کوئی انتظام کیا جائے۔اس طرح جماعت پر یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ وہ بے پردگی کی موجودگی میں برتھ کنٹرول کی تعلیم دیتے ، فیشن پرست بنانے ، ڈانسنگ سکھانے اور خلاف اسلام با تیں پڑھانے کے با وجود اپنی لڑکیوں کو ایسے سکولوں میں تعلیم دلانا ضروری سمجھتے ہیں حالانکہ اس سے ایک اور پہلو بھی نکلتا ہے اور وہ یہ کہ جلدی مردوں کو توجہ دلائی جائے کہ آجکل کی دُنیوی تعلیم جو لڑکیوں کو دی جاتی ہے وہ ایسی اہم نہیں کہ اس کے لئے ان عیوب کو قبول کیا جائے جو یہاں بیان کئے گئے ہیں۔اگر یہ واقعہ ہے کہ آجکل کے سکولوں میں یہ نقائص پائے جاتے ہیں تو میرے نزدیک یہ ہزار درجہ بہتر ہے کہ ہم لڑکیوں کو کم تعلیم دلائیں یا بالکل نہ دلائیں بہ نسبت اس کے کہ وہ ان عیوب کا شکار ہوں۔غور تو کرو کیا آپ کی دادیاں اور نانیاں اِن علوم کے