خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 633
خطابات شوری جلد دوم ۶۳۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء موجودہ صورت میں جماعت کے سامنے اس بجٹ کو پیش نہیں کر سکتا بلکہ صدر انجمن احمدیہ کو یہ بجٹ واپس کرتا ہوں اور اس قسم کے غلط بجٹ کو پاس کرنے کے لئے جماعت کے دوستوں کی رائے طلب کرنا میں بالکل فضول اور لغو خیال کرتا ہوں۔صدرانجمن احمد یہ کا فرض ہے کہ وہ تیرہ دن کے اندر اندر یعنی ۱۷ ر ا پریل ۱۹۴۲ء تک اس بجٹ پر دوبارہ غور کرے۔اُس کو کوئی حق حاصل نہیں تھا کہ وہ گریڈوں کو خود بخود بدل دے اور مختلف محکموں میں ایسی کمی کرے جسے کوئی شخص معقول قرار نہیں دے سکتا۔اسے چاہئے کہ جو معقول کمی کی جاسکتی ہو وہ کمی کر کے بجٹ کو صحیح اور مکمل صورت میں دوبارہ پیش کرے۔نیز اس بجٹ پر غور کرنے کے لئے میں ایک کمیٹی تجویز کرتا ہوں اور جماعت کے جن دوستوں کو اس کا ممبر مقرر کرتا ہوں اُن کا یہ فرض قرار دیتا ہوں کہ وہ پندرہ دن کے بعد یعنی انگلی اتوار کے گزرنے کے بعد جو اتوار کا دن آئے گا اُس دن قادیان میں جمع ہو جائیں اور سوائے اشد مجبوری کے کوئی دوست اس موقع پر قادیان آنے میں تساہل سے کام نہ لیں۔اگر اس اتوار کو بجٹ کا کام ختم نہ ہو سکا تو اگلی اتوار کو کام ختم کر دیا جائے گا۔بہر حال اس میں عدم شمولیت کے متعلق کسی قسم کا عذر نہیں سنا جائے گا اور سب کا فرض ہوگا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے مقررہ اتوار کے دن قادیان پہنچ جائیں۔اس کمیٹی کے لئے میں (۱)۔چوہدری نعمت خان صاحب (۲)۔پیراکبر علی صاحب (۳)۔خان بہادر نواب محمد الدین صاحب (۴)۔بابو عبدالحمید صاحب آڈیٹر (۵)۔میر محمد اسماعیل صاحب (۶)۔مرزا عبد الحق صاحب (۷)۔چوہدری عبداللہ خاں صاحب (۸)۔راجہ علی محمد صاحب اور (۹)۔ملک غلام محمد صاحب کو ممبر مقرر کرتا ہوں۔سلسلہ کے تمام ناظر بھی اس کمیٹی میں شریک ہوں گے۔آنے والی اتوار کے بعد جو اتوار کا دن آئے گا اُس دن یہ تمام دوست بجٹ پر غور کرنے کے لئے قادیان میں پہنچ جائیں۔پرائیویٹ سیکرٹری صاحب اس کمیٹی کے سیکرٹری ہونگے ، اسی طرح وہ کمیٹی کے ہر ممبر کے سیکرٹری ہوں گے۔ممبران بجٹ کی کاپیاں لے لیں اور اُن کے نزدیک جو بات دریافت طلب ہو یا جو معلومات وہ مزید حاصل کرنا چاہتے ہوں وہ پرائیویٹ سیکرٹری فوراً متعلقہ دفاتر سے حاصل کر کے انہیں پہنچا دیں۔اگر صدرانجمن احمدیہ کو اس غرض کے لئے اپنے دفاتر