خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 634 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 634

خطابات شوری جلد دوم ۶۳۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء چار یا پانچ گھنٹے تک وقت کے بعد بھی کھلے رکھنے پڑیں تو دفاتر کو کھلا رکھنا چاہئے اور اگر صدر انجمن احمد یہ انہیں فوری طور پر معلومات بہم نہ پہنچائے تو پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کا فرض ہے کہ اس امر کی میرے پاس فورار پورٹ کریں۔چونکہ بجٹ میں جائیدادوں کا سوال بھی زیر غور آئے گا اس لئے ملک مولا بخش صاحب ناظم جائیداد کو بھی اِس میں بُلایا جائے گا۔اسی طرح جن جن صیغوں کا سوال سامنے آئے گا ان صیغہ جات کے افسروں کو بلایا جائے گا۔مثلاً پرنسپل جامعہ احمد یہ یا ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول یا ہیڈ ماسٹر نصرت گرلز سکول، مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر تو خود ہی ناظر ہیں اس لئے وہ اُس وقت موجود ہی ہوں گے۔اسی طرح تجارتی صیغہ جات ہیں ان میں سے جس محکمہ کا سوال پیش ہوگا اُس کے افسر کو بھی بلایا جائے گا۔اب چونکہ اپریل کا مہینہ گزر رہا ہے اور اس بجٹ کی یکم مئی سے ضرورت پیش آتی ہے اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ دوست مجھ سے اس بارہ میں اتفاق کریں گے کہ اس وقت مصنوعی بجٹ پیش کرنے کی بجائے صدر انجمن احمدیہ کو یہ بجٹ واپس کر دیا جائے اور پھر کمیٹی کے مشورہ کے بعد اسے پاس کیا جائے۔“ نیز فرمایا: - پہلے مذکورہ بالا ممبر مشورہ کریں گے بعد میں ناظران کو بلا یا جائے گا۔“ یہ بجٹ وقتِ مقررہ پر پیش ہوا اور بعد غور اور مناسب تبدیلی پاس کر دیا گیا۔آخر میں حضور نے جماعت کو بعض ضروری نصائح فرمائیں اور دُعا کے ساتھ اجلاس ختم ہوا۔(رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء) ل المنافقون :٢ النساء : ۶۰