خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 632 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 632

۶۳۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء خطابات شوری جلد دوم ہیں جن کے متعلق وہ جانتے ہیں کہ اُن میں کمی ہونا ناممکن ہے۔جب ایک دفعہ یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ گریڈوں میں ہر قسم کی تبدیلی کا معاملہ شوریٰ میں پیش ہو کر فیصلہ ہوگا تو انہیں کس نے حق دیا تھا کہ وہ خود بخود اس کے متعلق فیصلہ کر دیتے۔پھر جب میں نے ایک سوال کیا تو اُس کا جواب ایسے رنگ میں دیا گیا کہ میں بھی دھوکا میں آ گیا حالانکہ واقعہ یہ تھا کہ قرض کے روپیہ سے جائیداد فک کرانے کے نتیجہ میں جتنی کمی ہو سکتی تھی وہ پہلے ہی کی جا چکی تھی اب مزید کمی کسی صورت میں ہو ہی نہیں سکتی تھی۔پھر یہ صاف بات ہے کہ جب کوئی شخص اپنے قرض کا مطالبہ کرے گا اور کہے گا کہ لاؤ میری رقم تو کیا میں اُس وقت یہ کہوں گا کہ سلسلہ بیشک اس کو لوٹ لے اور اُس کا روپیہ اُس کو واپس نہ کرے لازماً مجھے یہی کہنا پڑے گا کہ اُس کا روپیہ اُسے واپس کیا جائے۔اور جب میں یہ کہوں گا تو وہ کہہ دیں گے کہ بجٹ میں تو گنجائش نہیں آپ بجٹ بڑھانے کی اجازت دے دیں۔غرض وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اخراجات میں وہ ایسی ہی کمی کر رہے ہیں جن کے متعلق مجھے مجبوراً دوبارہ اجازت دینی پڑے گی اور یہ کمی ہر گز کمی نہیں کہلا سکتی کیونکہ عملاً اگلے ہی مہینہ میں انہوں نے کہنا شروع کر دینا ہے کہ فلاں فلاں کام نہیں ہو سکتا اس کے لئے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔یہ تقویٰ کے خلاف اور میرا منہ چڑانے والی بات ہے اور در حقیقت یہ سزا ہے اُس اختلاف کی جو ان دنوں بعض ناظروں کے درمیان ہو رہے ہیں اور یہ سزا ہے روحانیت کی کمی کی کہ بجائے اس کے کہ وہ اپنے دماغوں کو سلسلہ کے فائدہ کے کاموں میں لگاتے اور بجائے اس کے کہ خدا کو یاد کرتے اور اُس سے مدد مانگتے ، انہوں نے ایک عقلی کھلونا بنانے کی کوشش کی۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان سے ایسی حرکات سرزد کرائیں کہ آج وہ اپنے نفس میں شرمندہ ہو رہے ہوں گے۔اگر وہ تقویٰ سے کام لیتے ، اگر وہ خدا کو یا درکھتے اور اگر وہ سلسلہ کے مفاد کو اپنے نفس پر مقدم رکھتے تو آج ان کی یہ حالت نہ ہوتی بلکہ خدا ان کے لئے کوئی اورصورت پیدا کر دیتا۔پس میں اُنہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تقویٰ سے کام کریں ، اپنے اندر سلسلہ کا درد پیدا کریں اور ایسے افعال سے اجتناب کریں جن سے سلسلہ کا کام تمسخر بن کر رہ جائے۔بلکہ ایسے طور پر جدوجہد کریں جو سلسلہ کے بوجھ کو کم کرنے والی ہو۔بہر حال میں