خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 630
خطابات شوری جلد دوم ۶۳۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء مجھے نظارت بیٹ المال بتائے کہ یہ دو ہزار رقم انہوں نے کرایہ میں کس طرح کم کی ہے؟ آیا انہوں نے چار ہزار کرایہ دینا تھا یا نہیں ؟ اگر نہیں دینا تھا تو پہلے کیوں ظاہر کیا گیا کہ چار ہزار کرایہ دینا ہے اور اگر چار ہزار ہی دینا تھا تو اب اس میں دو ہزار کی کمی کس طرح ہو گئی ؟ خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب ناظر بیت المال اس کا جواب عرض کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو حضور نے پھر فرمایا : - بتایا جائے کہ یہ کرایہ کس چیز کا ہے اور پہلے اس کے لئے کیوں چار ہزار روپیہ کی رقم رکھی گئی تھی اور اب دو ہزار روپیہ کس طرح رہ گئی ہے؟“ ناظر صاحب بیت المال :- حضور یہ ان جائیدادوں کا کرایہ ہے جو مکفول ہیں اور جن کے عوض انجمن نے روپیہ لیا ہوا ہے۔حضور نے فرمایا : - " کیا اُن جائیدادوں کا جو کرایہ ہے وہ چار ہزار روپیہ سالانہ ہے؟ “ ناظر صاحب بیت المال : - غالباً اسی قدر ہے۔حضور نے فرمایا: ” آیا یہ شکی بات ہے؟ میں پوچھتا ہوں کہ کرایوں کی صحیح رقم کیا بنتی ہے؟۔ناظر صاحب بیت المال : - فوری طور پر کوئی جواب نہ دے سکے اس پر حضور نے فرمایا :- اصل بات وہی ہے جس کا میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ انہوں نے تجویز یہ کی ہے کہ امانت میں سے روپیہ لے کر جائیداد کا ایک حصہ آزاد کرا لیں گے حالانکہ وہ آمد ہے اور آمد میں ہی دکھائی جانی چاہئے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کسی کی آمد میں سے کچھ حصہ غائب کر لیا جائے۔پندرہ ہزار آمد ہو تیرہ ہزار کی آمد دکھا دی جائے اور دو ہزار کسی اور جگہ صرف کر کے کہہ دیا جائے کہ اتنا خرچ کم ہو گیا ہے۔“ اس موقع پر جناب ناظر صاحب بیت المال نے عرض کیا کہ جائیدادوں کو فک کرانے کے لئے امانت میں سے روپیہ نہیں لیا گیا بلکہ اُس قرض میں سے لیا گیا ہے جو سلسلہ کی ضروریات کے لئے حاصل کیا جاتا ہے اسی لئے خرچ میں اس جگہ کمی دکھائی گئی ہے۔اس پر حضور نے فرمایا:- ”انہوں نے بتا دیا ہے گو ہے یہ بھی آمد میں سے کمی۔مگر کہتے ہیں اس کے لئے ہم