خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 629
خطابات شوری جلد دوم ۶۲۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء مگر اس قانون کا بھی کوئی پاس نہیں کیا گیا۔چھ سات کا رکن ایسے ہیں جن کے گریڈ نیچے سے اُٹھا کر اوپر کر دیئے گئے ہیں مگر اُن کے ساتھ کوئی ایسا نوٹ نہیں دیا گیا جس سے معلوم ہوسکتا کہ انہیں یہ غیر معمولی ترقی کیوں دی گئی ہے۔اسی طرح کئی جگہ بلا وجہ کی کر دی گئی ہے مثلاً ڈاک کا خرچ ہی بعض جگہ کم کر دیا گیا ہے۔اب اگر کل میرے پاس ڈاک لائی جائے گی اور کہا جائے گا کہ ہم یہ ڈاک با ہر بھیجیں یانہ بھیجیں؟ تو کیا تم سمجھتے ہو کہ میں یہ کہوں گا کہ بیشک باہر ڈاک نہ بھیجو کیونکہ بجٹ کم کر دیا گیا ہے۔لازماً ایسا ہی ہوگا کہ یہ اخراجات بڑھانے ہوں گے تا اس قسم کی دقتیں واقع نہ ہوں مگر سوال یہ ہے کہ پھر اس قسم کی بے معنی کمی کرنے کی صدر انجمن احمدیہ کو کیا ضرورت تھی۔اسی طرح اور اخراجات اگر دیانتدارانہ طور پر کم کئے جاسکتے تھے تو انہیں کم کرنا چاہئے تھا مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صدر انجمن احمدیہ نے اس دفعہ اخراجات میں ایسی ہی غیر معقول کمیاں کی ہیں۔مثلاً لکھا ہے د و گرانٹ صیغہ جات برائے ادائیگی کرایہ۔دو ہزار روپیہ“ یہ گرانٹ جو ادا ئیگی کرایہ کے لئے تھی پہلے چار ہزار روپیہ رکھی گئی تھی پھر میرے اس مطالبہ پر کہ بجٹ میں پندرہ ہزار روپیہ کی کمی کی جائے چار ہزار کو دو ہزار کر دیا گیا۔اب سوال یہ ہے کہ اگر تو چار ہزار کو دو ہزار انہوں نے اس لئے کیا ہے کہ انہوں نے اپنی بعض جائیدادیں واگزار کر لی ہیں تو پہلے بجٹ میں چار ہزار روپیہ اس غرض کے لئے کیوں رکھا گیا تھا ؟ اور اگر چار ہزار روپیہ کرا یہ تھا تو سوال یہ ہے کہ اب وہ کرایہ دیں گے یا نہیں؟ اگر وہ چار ماہ کے بعد میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ ہم نے فلاں فلاں کا اتنا کرایہ دینا ہے تو کیا اُن کا یہ خیال ہے کہ میں انہیں کہوں گا کہ تم بیشک کرایہ نہ دو اور لوگوں پر ظلم کرتے رہو؟ پھر جبکہ انہوں نے لازماً کرایہ دینا ہے تو اس رقم کو چار ہزار کی بجائے دو ہزار کیوں کیا گیا ؟ اور اگر اُن کا یہ منشاء ہے کہ وہ لوگوں کو کرایہ نہیں دیں گے اور اس نقطہ نگاہ کے ماتحت انہوں نے گرانٹ میں کمی کی ہے تو یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی اپنے مہمان کا بٹوا چرا لے اور کہے کہ میری اتنی آمد بڑھ گئی ہے اگر اس قسم کا کوئی واقعہ میرے سامنے آئے تو لازمی بات ہے کہ مجھے یہی کہنا پڑے گا کہ چوری کا بٹوا واپس کرو اور اپنی آمد بڑھانے کے لئے یہ ناجائز طریق اختیار نہ کرو۔اسی طرح جب یہ چار ہزار کرایہ تھا تو سوال یہ ہے کہ اس کرایہ کو دو ہزار کس طرح کر دیا گیا۔