خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 631 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 631

خطابات شوری جلد دوم ۶۳۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء نے قرضہ لیا ہے۔امانت میں سے نہیں لیا میں اس کی بعد میں تحقیقات کروں گا۔پھر لکھا ہے گرانٹ انجمن ہائے برائے انتظام مقامی‘ اس میں ایک ہزار روپیہ کی کمی کی گئی ہے حالانکہ گزشتہ سال چھ ہزار گرانٹ رکھی گئی تھی اور سات ہزار ایک سو خرچ ہوا۔اب گزشتہ سال کے بجٹ میں بھی ایک ہزار کی جو کمی کر دی گئی ہے یہ کس حکمت کے ماتحت کی گئی ہے؟ کیا وہ کسی نئی انجمن کی منظوری نہیں دیں گے یا کسی انجمن کی گرانٹ بند کر دیں گے؟ حالانکہ انہیں اس قسم کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔“ ناظر صاحب بیت المال اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔حضور نے فرمایا: ” نظامت جائیداد والے بتائیں کہ وہ ادائیگی کرایہ کے لئے کتنی رقم سالانہ دیتے ہیں؟“ ناظم صاحب جائیداد نے ابھی جواب میں کچھ عرض نہیں کیا تھا کہ بابوعبدالحمید صاحب آڈیٹر نے عرض کیا کہ جو قرض جائیدادوں کو فک کرانے کے لئے دیا گیا ہے اُس کا کرایہ انجمن کی طرف سے پہلے کاٹا جا چکا ہے اس لئے یہ چار ہزار روپیہ کرایہ الگ ہے جس میں کوئی کمی نہیں ہو سکتی تھی۔حضور نے فرمایا:- ناظر ان کو تقوی کی تلقین " اس طرح وہ تشریح جو ناظر صاحب بیت المال نے بتائی تھی پھر باطل ہوگئی کیونکہ کرایہ کی رقم زیادہ دینی پڑتی ہے اور بجٹ میں کم دکھائی گئی ہے۔مجھے افسوس ہے کہ جس قسم کی کمی اس دفعہ بجٹ میں کی گئی ہے وہ تقویٰ کے بالکل خلاف ہے اور درحقیقت یہ خلیفہ پر جبر اور اُسے اپنی گھوڑی اور سواری بنانے والی بات ہے۔میں اس قسم کے تمسخر اور کھیل کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور انجمن کو تنفیہ کرتا ہوں کہ اگر وہ اسی طرح کام کرے گی تو میرا اور اس کا ہر گز تعاون نہیں ہو سکے گا۔اگر وہ تقویٰ سے کام لیتے تو وہ اُن مدات میں کمی کرتے جن میں کمی کرنے کا انہیں جائز طور پر حق تھا۔اور اگر کمی نہ کر سکتے تو کہہ دیتے کہ ہم سے تو کمی نہیں ہو سکتی آپ بتا دیں کہ کس کس جگہ کمی کی جائے ہم کمی کرنے کے لئے تیار ہیں۔لیکن سال بسال وہ خرچ بڑھاتے اور باصرار بڑھاتے چلے جاتے ہیں مگر جب کمی کا وقت آتا ہے تو اُن چیزوں میں کمی کر دیتے